عدالت نے پنجاب میں شفاف الیکشن کرانے اورالیکشن کمیشن کو انتظامی معاونت کی فراہمی کی درخواست نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں پنجاب میں صاف شفاف الیکشن کرانے اور الیکشن کمیشن کوانتظامی معاونت کی فراہمی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔
عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیاتھا، درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔
اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ اسی نوعیت کی درخواستیں دو رکنی بنچ کے پاس زیر سماعت ہیں۔ یہ درخواست بھی دو رکنی بنچ کے پاس سماعت ہونی چاہئیے۔
درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، حکومت پنجاب کوفریق بنایا گیاہے اور مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ نے مقررہ آئینی مدت میں پنجاب کےانتخابات کاحکم جاری کررکھا ہے۔ انتخابی شیڈول کا اجرا ہونے کےباوجود جلسے، جلوسوں اوررہلیوں کی اجازت نہیں دی جارہی۔ انتظامی ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت سے پہلوتہی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
عدالت نے مؤقف اپنایا کہ عدالت عالیہ میں چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب نے انتخابات میں معاونت کی مکمل یقین دہانی کرائی تھی۔ انتظامی معاونت نہ ملنے سے الیکشن کمیشن کےلئے صاف شفاف انتخابات کرانا ممکن نہیں رہے گا۔ آئین کےآرٹیکل 220کےتحت تمام انتظامی ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کےپابند ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پنجاب میں تمام انتظامی اداروں کوانتخابات کو یقینی بنانے کےلئے الیکشن کمیشن کی مکمل معاونت کاحکم دے۔
