اسلام آباد کی مقامی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حسان نیازی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کی جانب سے مذید جسمانی ریمانڈ کی اسدعا مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن حسان خان نیازی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
حسان خان نیازی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے کا تفصیلی فیصلہ جاری
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ڈیوٹی مجسٹریٹ مرید عباس کی عدالت میں عمران خان کے فوکل پرسن حسان نیازی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرپیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے حسان نیازی کے مزید 5 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ شریک ملزم کی نشاندہی ہو گئی ہے، حسان نیازی کا اسلحہ اور گاڑی برآمد کرنی ہے۔
عدالت نے حسان نیازی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد
براہ راست دیکھیں: https://t.co/7PN6qbA9Hd#BOLNews #HassaanNiazi pic.twitter.com/ElpiTotArm— BOL Network (@BOLNETWORK) March 23, 2023
حسان نیازی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ 72 گھنٹوں سے زائد ہو گئے، پولیس نے اب تک اسلحہ برآمد نہیں کیا، تفتیشی افسر کے مطابق شریک ملزم کی شناخت کر لی گئی ہے۔
وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ اسلحہ اور گاڑی قبضے میں نہیں تو حسان نیازی کو قبضے میں کیوں رکھنا ہے؟ 72 گھنٹوں میں پولیس گاڑی اور اس کے مالک کا پتہ لگانے میں ناکام رہی، حسان نیازی پیشہ ور وکیل ہیں اور گرفتاری کے دن انہوں نے 3 ضمانتیں لیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں پر صرف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے جا رہے ہیں، ایک وکیل کو 3 دن زیرِ حراست رکھ کر پیغام دیا گیا کہ گرفتار کر کے تشدد کیا جائے گا، اسلام آباد پولیس کے ہاتھوں ایک پیشہ ور وکیل کی تذلیل کی جا رہی ہے۔
حسان نیازی کے ایک اور وکیل علی بخاری نے عدالت سے حسان نیازی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی۔
وکیل علی بخاری نے کہا کہ حسان نیازی کی گرفتاری ہی غیر قانونی ہے۔
حسان نیازی کے وکیل قیصر امام نے کہا کہ پولیس کے مطابق شریک ملزم اسلحہ لہراتا بھاگ گیا، یہ کیسی دوستی ہے؟ صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن ہونے کے ناتے میں بہت شرمندہ ہوں۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ مرید عباس نے فریقین کے دلائل سنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
