ڈیرہ اسماعیل خان سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان حبیب اللہ کنڈی اور عرفان کنڈی نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق صوبائی وزیر حبیب اللہ کنڈی نے صدر پی ٹی آئی ڈیرہ اسماعیل خان عرفان اللہ کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا سیاسی کیریئر 1985 میں شروع کیا، میں نان پارٹی بیس پر ایم پی اے منتخب ہوا اور 1990 کا انتخاب بھی میں جیت گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک جنیجو تھا تب تک اس کے ساتھ تھا اس کے بعد آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔2008 میں بھی میں نے انتخابات میں حصہ لیا اور2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر میں نے الیکشن لڑا۔
حبیب اللہ کنڈی نے یہ بھی کہا کہ میں 9 مئی کے واقع میں ملوث نہیں ہوں، میں نے 9 مئی کے واقع کی اس وقت بھی مزمت کی اور اب بھی مزمت کرتا ہوں، میں پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہتا ہوں، پاکستان کا نقصان کیا گیا اس لئے پاکستان تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں۔
سابق صوبائی وزیر حبیب اللہ کنڈی نے مزید کہا کہ ہمارے اوپر کسی کا دباؤ نہیں ہے، کسی کے کہنے پر پارٹی نہیں چھوڑ رہا ۔ میری عمر اجازت نہیں دیتی کہ ابھی کوئی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کروں لیکن ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ آزاد حیثیت سے سیاست کرنی ہے یا پرویز خٹک کے ساتھ جانا ہے۔
اس موقع پر سابق صوبائی وزیر اور صدر پی ٹی آئی عرفان اللہ کنڈی نے کہا کہ آج کرنل شیر خان شہید کا ہوم شہادت ہے اس لیے پریس کانفرنس کے لیے آج کے دن کا انتخاب کیا، میں بطور صدر ڈیرہ اسماعیل پاکستان تحریک انصاف اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان ہوتا ہوں جبکہ میں پارٹی کی بنیادی رکنیت چھوڑنے کا بھی اعلان کرتا ہوں، میں پاکستان تحریک انصاف سے دستبردار ہورہا ہوں۔
عرفان اللہ کنڈی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر پاکستانی 9 مئی کے واقع پر غم و غصے کا شکار ہے،9 مئی کے واقع سے دلی دکھ ہوا، شہداء کی بے حرمتی کی گئی جبکہ ملک شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے آزاد اور قائم ہے۔
صدر پی ٹی آئی نے کہا کہ میں ضلعی صدارت بھی چھوڑ رہا ہوں، آئندہ کا لائحہ عمل جلد بتائیں گے، مشاورت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم پختون روایات سے بغاوت نہیں کر رہے، ہمیں پارٹی میں لانے والے پرویز خٹک تھے، پرویز خٹک کی محنت کی وجہ سے پارٹی کو دو تہائی اکثریت ملی، پرویز خٹک نے پارٹی چھوڑ دی تو ہم بھی سوچنے پر مجبور ہوئے۔
سابق صوبائی وزیر اور صدر پی ٹی آئی عرفان اللہ کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 9 مئی کے واقع کی مذمت کی، ہم نے اس پارٹی کے لیے بہت محنت کی، ہم نے دھرنے دیے ، کروڑوں روپے لگائے جبکہ ہم حقیقی آزادی کے سفر میں عمران خان کے ساتھ تھے لیکن 9 مئی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔



















