لاکھوں ایکڑ اراضی کو زیرکاشت لاکرجدید ایگرو فارمنگ کو ترقی دینے کے لیے حکومت نے لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم سینٹر آف ایکسیلینس قائم کردیا۔
وزیر اعظم آفس سے جاری تفصیلات کے مطابق لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم، سینٹر آف ایکسیلینس کا قیام پہلا غیر معمولی اقدام ہے جس کا مقصد غذائی تحفظ کو بڑھانا اور زرعی برآمدات کو بہتر بنانا ہے، اس نظام سے لاکھوں ایکڑ غیر کاشت اور کم پیداوار والی اراضی کو تبدیل کرکے قومی خزانے پر درآمدی بوجھ کم کیا جاسکے گا۔
لینڈ انفارمیشن اینڈ منیجمنٹ سسٹم جدید زراعت کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان اور پاک فوج کا بے مثال منصوبہ ہے۔لمز کا قیام پاکستان میں زراعت کے شعبے میں انقلاب کا باعث بنے گا یہ پاکستان کی تاریخ میں زرعی شعبے کی ترقی کا پہلا جامع حکومتی اقدام ہے۔
لمز کا بنیادی مقصد ملکی زرعی درامدات میں کمی، برآمدات میں اضافہ اور بڑھتی آبادی کی غذائی اجناس کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔لینڈ انفارمیشن مینیجمینٹ سسٹم پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔
لمز کے قیام سے کسانوں کو موسمی تبدیلیوں، فصلوں کی سیٹلائٹ سے ہمہ وقت نگرانی، پانی، کھاد اور اسپرے کے متوجہ علاقوں کے بارے میں معلومات بیک وقت دستیاب ہوں گی۔لمس کے قیام سے کسانوں کو منڈیوں تک براہ راست رسائی بھی حاصل ہو گی۔
لینڈ انفارمیشن مینیجمینٹ سسٹم کے تحت غیر آباد اور کم پیداوار والی زرعی زمینوں پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جائے گا۔ اس انقلابی ادارے سے زمین، فصلوں، موسم، پانی کے ذخائر اور کیڑوں کی روک تھام پر ایک ہی چھت کے نیچے کام کیا جائے گا۔
مختلف وسائل و ذخائر، جدید ٹیکنالوجی اور آبپاشی نظام کے مناسب استعمال سے زراعت میں ایسی ترقی لائی جائے گی جس سے ملک کے ہر خطے میں خوراک کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔
معلومات اور تجزیات کی بنا پر مشکلات، رکاوٹوں اور چیلنجز کی نشاندہی، مناسب حل تلاش کرنے اور باخبر فیصلے لینے میں آسانی ہو گی۔اس پروگرام کے باعث ملک میں عوام کے لیے نوکریوں کے وسائل بھی پیدا ہونگے۔
سعودی عرب، چائنہ، متحدہ عرب امارت، قطر اور بحرین کے ساتھ بہت سے منصوبوں میں شراکت داری کی جارہی ہے جس سے پاکستان کے برآمدات میں یقینی اضافہ ہوگا۔سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے نئی نہریں بنائی جائیں گی جبکہ جدید آبپاشی کی ٹیکنیکس جیسا کہ ماڈیولر ڈرپ آبپاشی، سپرنکلر آبپاشی اور محور آبپاشی کا استعمال عمل میں لایا جائے گا
افتتاحی تقریب میں وزیراعظم، آرمی چیف،وفاقی وزرا، متعلقہ حکام اور زرعی ماہرین نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر سعودی عرب، چین، قطر، بحرین اور یو اے سی سمیت دیگر ممالک کے سفیر، وفاقی وزراء اور عسکری حکام بھی موجود تھے۔



















