خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مسلمانان برصغیر کی پہچان اردو ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہدائے اردو کی فاتحہ خوانی کے بعد کنوینئر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت آباد جدوجہد کا مرکز اور محور رہا ہے، اردو پاکستان کیلئے بہت بڑا انعام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو زبان نہ ہوتی تو ہم ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہوتے، اردو دیگر قومیتوں میں رابطے کی زبان ہے، اردو کو سرکاری زبان بنانے کیلئے عدالتی فیصلے دیئے گئے۔
کنوینئر ایم کیو ایم نے کہا کہ مسلمانان برصغیر کی پہچان اردو ہے، المیہ ہے کہ اردو کا دفاع کرنے والوں کوشہیدکرکے پاکستان کیخلاف سازش کی گئی۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمیں قائداعظم کے پاکستان سے بھٹوکے پاکستان میں دھکیل دیا گیا ، ذوالفقار علی بھٹوکے دور میں اردو بولنے والے شہید کئے گئے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ لوگ سندھودیش کا خواب سجائے بیٹھے ہیں اردو ان کے خواب کی تعبیر میں رکاوٹ ہے، پاکستان سری لنکا افغانستان سمیت مشرق وسطی میں اردو رابطےکی زبان ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی میئر بننے سے شہر کا مالک نہیں بن سکتا، کسی کے ساتھ مک مکا کرکے تو ہمارا بھی میئر بن جاتا ہے لیکن ایم کیو ایم کسی اور کے ساتھ ڈپٹی میئر کا معاہدہ بھی نہیں کرے گی، یہ کراچی کے عوام کا اختیار ہے جسے چاہے میئر منتخب کرے۔
کنوینئر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ہم صوبوں کوصرف انتظامی یونٹ سمجھتے ہیں، ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔



















