بلدیہ عظمٰی کراچی کی سٹی کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تو اپوزیشن ارکان میئرکراچی کیخلاف مورچہ زن ہوگئے اور شدید نعرے بازی کی۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی میں سٹی کونسل کا پہلا اجلاس ہوا، تلاوت قرآن پاک سے کونسل کے اجلاس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اجلاس میں مئیر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کے علاوہ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن بھی موجود تھے۔
کراچی سٹی کونسل کے اجلاس کے اغاز میں شور شرابا اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے اراکین آمنے سامنے آگئے۔
جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین نے نامنظور کے نعروں سے کونسل کی فضا بلند کردی، قرآن کی تلاوت کے دوران جماعت اسلامی کے چیئرمین کے نعرے بازی جاری رہی۔
اجلاس میں سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف بلدیہ عظمیٰ کراچی میں قرارداد پیش کی گئی۔ شدید نعروں کے دوران کونسل کا اجلاس جاری رہا۔
جماعت اسلامی کے چیئرمین نے نامنظور چیئرمین کے بل بورڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے جس پر قبضہ مئیر نامنظور کے نعرے درج تھے۔
جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کونسل کے اجلاس کے دوران کھڑے ہو کر نعرے لگائے اور اجلاس میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
میئرکراچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں چاہتا ہوں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی مل کر کراچی کی خدمت کرے۔ وقت بتائے کا کس نے خدمت کی کس نے منافقیت کی۔ سب دیکھ رہے ہیں کون کام کرنا چاہتا ہے اور کون کونسل اجلاس کو خراب کرنا چاہتا ہے۔
مرتضٰی وہاب نے کہا کہ میں ایک سوال کروں گا کیا آپ کراچی کے مسائل کا حل چاہتے ہیں؟ کیا آپ کراچی کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں پی ٹی آئی کے رہنما اشرف صاحب سے گزارش کروں گا وہ خطاب کریں۔
کے ایم سی کے پہلے اجلاس میں جماعت اسلامی کے منتخب اراکین سٹی کونسل پہنچے تو ایوان حافظ حافظ کے نعروں سے گونج اٹھا۔
اجلاس کے دوران حافظ نعیم الرحمان خطاب کرنے آئے تو ان کا مائیک بند کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ مینڈیٹ چوری کرکے میئرکراچی کو منتخب کرایا گیا ہے جو غیرقانونی عمل ہے، اسے ہم قبول نہیں کرتے۔
مئیرکراچی نے خطاب میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کے اجلاس سکون سے ہو مگر یہ لوگ نہیں چاہتے، میڈیا گواہی دے گا میں کراچی کے ترقی چاہتا ہوں۔ میں کراچی کا مئیر ہوں، میں چاہتا ہوں ہم مل کر کام کرے۔
مرتضٰی وہاب نے کہا کہ یا جماعت اسلامی کے کارکنان ہو پی پی پی کے کارکنان ہوں پی ٹی آئی کے کارکنان ہوں سب مل کر کام کرے گے
جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج پہلا اجلاس ہے مگر مجھے افسوس ہےکہ تمام ضابطوں کے بغیر چلایا جا رہا ہے، 15 جون کو مئیرکے انتخاب کی تاریخ تھی مگر کے ایم سی کا بجٹ پاس کیا گیا۔
حافظ نعیم کے خطاب کے دوران پی پی پی کےحق میں نعرے بازی کی گئی۔



















