چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سویلنز کا ایسا ٹرائل نہیں کرنے دیا جاسکتا جو خلاف آئین ہو۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 6 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔لارجر بینچ کے دیگرججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عاٸشہ ملک شامل ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کیس میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سویلنز کا ایسا ٹرائل نہیں کرنے دیا جا سکتا جو خلاف آئین ہو، لیاقت حسین کیس میں کہا گیا تھا کہ ملٹری اتھارٹیز تحقیقات کرسکتی ہیں سویلین کا ٹرائل نہیں۔
دوران سماعت ملٹری کورٹس میں سویلین ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت کےلیے فل کورٹ تشکیل دینے کی اٹارنی جنرل کی استدعا مسترد کردی گئی۔
چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ کی استدعا پر کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل مشکل نظر آ رہی ہے۔ ججز کی دستیابی نہیں، فل کورٹ تشکیل دینا ناممکن ہے۔ تین ججز بنچ کا حصہ بنے سے معذرت کر چکے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے استدعا کی تھی کہ مناسب ہوگا کہ مقدمہ فل کورٹ سنے، وزارت دفاع کے وکیل عرفان قادر نےبھی چھ رکنی لارجر بینچ کے تین ججز پر اعتراض اٹھایا اور کہا میرے استدعا ہے کہ چیف جسٹس اور دیگر دو سینئر ججز مقدمہ نا سنیں۔ جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ آپ دلائل دیں ہم آپکو پورا موقع فراہم کریں گے۔
جسٹس عائشہ ملک نےحکومتی وکیل سے کہا کیس شروع ہوا تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں تھا،اب آپ کہہ رہے ہیں کہ فل کورٹ بنا دیں آپ چاہتے کیا ہیں ، آپ کہہ رہے ہیں کہ 17 جج اس کیس کے لیے دستیاب ہوں یہ ممکن نہیں۔
دوران سماعت درخواست گزار عابد زبیری کا کہنا تھا سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہوسکتا۔آرٹیکل 175/9 کے تحت سویلنز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کےلئے آئینی ترمیم ضروری ہے۔
چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کا مزیدکہنا تھا سویلینز کیساتھ سخت برتاؤ نہیں ہونا چاہیے،آرمی ایکٹ عام قوانین کی نسبت کافی سخت ہے تاہم گرفتارسویلینز کیساتھ اچھے برتاؤ کا سن کر خوشی ہوئی ہے۔ ہم آج اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ فل کورٹ تشکیل دے سکیں، فل کورٹ کی تشکیل کیلئے میں ججز سے مشاورت کرکے آگاہ کروں گا، کیس کی سماعت کل پھرہوگی۔
فوجی عدالتوں سے متعلق مقدمےکی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔



















