Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ملٹری کورٹس میں سویلین ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی

ملٹری کورٹس میں سویلین ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو پرسوں تک جواب دینے کا حکم دے دیا۔

دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں اپیل کا حق دینا ہے تو قانون سازی سے دیں، آپ یہ چیزعدالت سے کیوں مانگ رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکسان نے کہا کہ آپ کو مطمئن کرنا ہو گا کہ ٹرائل کے بعد اپیل کاحق ہوگا، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت بنی کسی عدالت میں اپیل کا حق ملے گا یا نہیں سوال یہ ہے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کلبھوشن کو ہائیکورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ قانون سازی کے ذریعے وہ ایک “ایلین ” کو حق دیا گیا جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وہ “ایلین ” ہے یا انڈین؟ لفظ “ایلین’ کی تو کچھ اورتشریحات ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آپ کو ایک تجویز دیتے ہیں آپ ہدایات لے کر آئیں۔ آپ ہدایات لیکر بتائیں اپیل کاحق ملنا ہےیا نہیں، آپ کب تک ہدایات لیکر بتا سکتے ہیں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مجھے پرسوں تک کا وقت دے دیں۔

سماعت کے ابتدا میں اٹارنی جنرل عرفان قادر عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ کور کمانڈر ہائوس لاہور پر 5:40 منٹ، جی ایچ کیو پر 5:30 بجے شرپسندوں نے حملہ کیا، سیالکوٹ، راولپنڈی، پشاور اور دیگر شہروں میں بھی حملے 3 سے 7 بجے کے درمیان ہوئے، تمام حملے عسکری تنصیبات پر کیے گئے، پی ایف بیس میانوالی میں معراج طیارے کھڑے ہوتے ہیں۔

عرفان قادر نے دلائل دیے کہ شرپسندوں نے ایم ایم عالم کے زیر استعمال رہنے والا طیارہ بھی نذر آتش کر دیا، بیس پر حملے کے وقت ایندھن اور معراج طیارے بھی موجود تھے۔

اٹارنی جنرل نے عسکری تنصیبات پرحملوں کی تصاویر بھی عدالت میں پیش کیں اور بتایا کہ عسکری تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں مجموعی نقصان ایک ارب 90 کروڑ کے قریب ہے، نو مئی کے واقعات میں مجموعی طور پر 2.5 بلین روپے کا نقصان ہوا۔ سپریم کورٹ ماضی میں بھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل درست قرار دے چکی ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ماضی میں فوجی عدالتیں آئینی ترمیم کے نتیجہ میں بنی تھیں، جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ شرپسندوں کیخلاف فوجداری مقدمات آرمی قوانین کے تحت ہیں، جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے یا نہیں، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس نقطے کا جواب دیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فوج کی تحویل میں 102 ملزمان ہیں جبکہ حملے درجنوں تنصیبات پر ہوئے، جو دفعات عائد کی گئی ہیں ان میں سزا دو سال ہے، تنصیبات کو جس نوعیت کا نقصان ہوا سول قانون میں سزا اس سے زیادہ ہے، ملزمان کا ٹرائل اگر سول عدالتوں میں ہوا تو سزائیں شاید زیادہ سخت ہوں۔

جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ نو مئی واقعات میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نو مئی واقعہ میں کوئی فوجی اہلکار شہید نہیں ہوا، اس پر جسٹس مظاہرنقوی نے پوچھا کہ کوئی شہادت نہیں ہوئی تو 302 کی دفعہ کیسے لگ گئی؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس بات کا جواب پنجاب اور کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل دے سکتے ہیں۔

دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ان وجوہات کی بنا پر فل کورٹ تشکیل دیکر مقدمے کی سماعت کرے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا، لیاقت حسین کیس میں جرم سویلین نوعیت کا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کچھ حقائق سامنے رکھے ہیں، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں بھی جرم سویلین نوعیت کا تھا۔

جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ وہاں صورتحال بالکل مختلف تھی، ائینی ترمیم کرکے فوجی عدالتیں قائم کی گی تھی۔ چیف جسٹس بولے آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسا پہلی بار ہوا کہ عوام نے فوجی تنصیبات پر حملے  کیے،درخواست گزاروں نے جو نکات اٹھائے ان پر بھی بات کریں، سیکشن 7 کے تحت ملٹری کورٹس میں سزا کتنی ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سیکشن 7 اور 9 کے تحت ملٹری عدالتوں میں سزا دو سال قید ہے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کیا یہی سزا زیادہ سے زیادہ بنتی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ  جی، یہی سزا بنتی ہے جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عام عدالتوں میں تو پھر سزا زیادہ بنتی ہے۔

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پرچیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ سماعت کی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version