سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کیخلاف دوسری نظر ثانی کی درخواست خارج کردی ، سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کیوریٹو ریویو کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔
تیرہ صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس نے ان چیمبر سماعت کے بعد جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ جج کے مس کنڈکٹ کا جائزہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل لے سکتی ہے عدالت نہیں، سوموٹو کارروائی میں کسی فریق کا ہونا لازمی نہیں، عدالت کا کام صرف ٹھوس معلومات پر کارروائی کرنا ہوتا ہے۔
جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمومی حالات میں کیوریٹو ریویو کے قابل سماعت ہونے پر معاملہ عدالت کو بھیجا جاتا ہے، قانون درخواست گزاروں کو اپنی درخواستیں واپس لینے کی اجازت دیتا ہے۔ عوامی مفاد کے مقدمات عدالت کی اجازت کے بغیر واپس نہیں لئے جا سکتے، جسٹس فائز عیسی کا کیس عوامی مفاد کے زمرے میں نہیں آتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کیس میں کسی جج نے اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کا نہیں سوچا، عوامی مفاد کے نقطے پر فیصلہ کالعدم قرار نہ دیا جانا کیوریٹو ریویو کا دائرہ کار ختم کر دیتا ہے، کیوریٹو ریویو کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دیں۔



















