عدالت نے ملیرایکسپریس وے کی تعمیرکے تنازع کے معاملے میں شہری کی درخواست پرسندھ حکومت ودیگرکو نوٹس جاری کردیے۔
سندھ ہائیکورٹ میں ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کے تںازع پرشہری احمد شبر کی جانب سے سندھ انوائرمینٹل ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت ہوئی۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سندھ حکومت و دیگر سے 10 اگست تک جواب طلب کرلیا۔
وکیل درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے 38.75 کلومیٹر کا چھ لائین ڈبل گیراج پروجیکٹ ہے، ملیر ایکسپریس وے شہر کے انڈسٹریل ایریا کورنگی لانڈھی سے ٹریفک سیدھا شہر کے باہر جائے گا۔
درخواست گزارکے وکیل نے مؤقف میں کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کی جانب سے ماحولیاتی منظوری لی جارہی تھی تو ہم نے اعتراضات دائر کیے تھے، ہمارے اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اس کے بعد ہمیں منصوبے کی منظوری کی خبر سے پتا چلی۔
درخواست میں یہ بھی کہاگیا کہ سندھ انوائرمینٹل ٹربیونل نے ہمارے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ملیر ایکسپریس وے کی اجازت دی، ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر سے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچے گا۔ ملیر ایکسپریس کی تعمیر سے ملیر کے ایکولوجی کو نقصان پہنچے گا۔
درخواست گزارنے استدعا کی کہ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کے اجازت نامے غیر قانونی قرار دیے جائیں۔۔
سندھ انوائرمنٹل ٹربیونل نے 15 اپریل کو ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر جاری رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
