چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنقید کی کوئی پرواہ نہیں، ہم صرف اللہ کو جوابدہ ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے چھ رکنی لارجربنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس پاکستان ے کہا کہ جہاں پر دلائل رکے تھے وہاں سے ہی شروع کردیں۔
اٹارنی جنرل نے کہ کل لطیف کھوسہ نے گرفتار ملزمان سے ناروا سلوک کی شکایت کی۔ میں نے خود چیک کیا، کسی ملزم کے ساتھ ناروا سلوک نہیں ہوا، ملزمان کو صحت سمیت تمام سہولیات میسر ہیں۔ ملزمان کے خلاف ناروا سلوک ہوا تو ایکشن ہوگا۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہم نے فل کورٹ کی تشکیل پر مشاورت کی ہے جس کے بعد عدالت نے فل کورٹ کی درخواست کرنے والے وکیل فیصل صدیقی کو روسٹرم پر بلا لیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آپ کے تحفظات کی قدرکرتے ہیں، اس عدالت نے دو مواقع پر لارجر بینچ تشکیل دیا، ہمیں تنقید کی کوئی پرواہ نہیں، ہم صرف اللہ کو جوابدہ ہیں۔
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ جب فوجی عدالتیں فعال ہوتی ہیں تو عمومی کرمنل کورٹ غیر فعال ہو جاتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں پرآرٹیکل 175 اے کا اطلاق نہیں ہوتا جس پرجسٹس منیب اخترنے کہا کہ ملٹری کورٹس میں فوجیوں کا ٹرائل ہوتا ہے جن کے بنیادی انسانی حقوق ہیں ہی نہیں۔ سویلینز کے بنیادی انسانی حقوق ہیں تو ان کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں کیسے ہوگا؟
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر عدلیہ اور مقننہ کے دائرہ کار میں تفریق کیسے کریں گے۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کورٹ مارشل کا دائرہ کار الگ کیا گیا ہے، میں اس معاملے پر لیاقت حسین کیس سمیت مختکف فیصلے پڑھوں گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ فوجی عدالتیں قانون کے مطابق نہیں ہیں، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ عدالتیں قانون کے تحت بنی ہیں لیکن آئین کے آرٹیکل 175 سے متثنی ہیں۔ میں عدالتی سوالات کا بھی جواب دوں گا، کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے تحت نہیں آتا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ درخواست گزار یہی کہہ رہے ہیں سویلین شہریوں کے بنیادی حقوق ہیں، بنیادی حقوق تو پھر آرٹیکل 175 کے تحت قائم عدالتیں ہی دیکھیں گی۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ فوجی عدالتیں قانون کے مطابق قائم ہوتی ہیں، فوجی عدالتوں کیخلاف آئین کے آرٹیکل 199(5) کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاتا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات الگ الگ ہونے کا نکتہ بھی اہم ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ محکمہ مال اور ایف بی آر سمیت کئی اداروں میں انتظامی افسران فیصلے کرتے ہیں، انتظامی افسران کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں بھی اعلی افسران ہی سنتے ہیں، انتظامی افسران کے بعد ہائی کورٹ کے لیول پر معاملہ عدالت میں آتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انتظامی ٹربیونل میں کسی کو سزائے موت یا قید نہیں ہوتی، کسی بھی شہری کو بنیادی حقوق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے، آرمی ڈسپلن کی حد تک تو بات الگ ہے۔ فوجی افسر کو سزائے موت بھی شفاف ٹرائل کے بغیر کیسے ہوسکتی ہے؟ فوج کے اہلکار اور افسران بھی ملک کے شہری ہیں۔
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیخلاف درخوستوں پر سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں اپیل کے حق پر مشاورت ہوئی ہے۔ جی ایچ کیو سے مشاورت ہوئی ہے، بات چیت جاری ہے، میں آج کوئی بیان نہیں دینا چاہتا، کل تک اگرسماست جا رہی ہے تو آج دوبارہ بات کر لوں گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپیل کے حق پرآپ کا جواب مثبت میں ہے تو آپ مزید معاونت جاری رکھ سکتے ہیں، اگر جواب مثبت نہیں تو ہم سماعت مکمل کرلیں گے۔
عدالتِ عظمٰی نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
اس سے قبل عدالتِ عظمٰی نے فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پرفل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کی۔ خبر پرکلک کریں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
