آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ امن کو برباد کرنے والے لوگ ہم میں سے نہیں، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج،ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پشاور میں تاریخی گرینڈ جرگہ میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے بہادر قبائلیوں اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ آرمی چیف نے ایف سی، لیویز، خاصہ دار فورس اور پولیس کی قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے خیبر پختونخوا کے مشیران، عمائدین اور نمائندوں کے تاریخی گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور سیکورٹی کے تمام ادارے اور پاکستان کی عوام ایک ہیں جبکہ جو لوگ امن کو برباد کرنا چاہتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کا دورہ پشاور، آرمی چیف نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی ہے
دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا کچھ نہیں کرسکتی۔۔ دہشتگردوں کے پاس ریاست کے سامنے جھکنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا جرگے سے خطاب#BOLNews… pic.twitter.com/xI6xxTAXwW— BOL Network (@BOLNETWORK) August 7, 2023
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی فوج شہداء کی فوج ہے جس کا نعرہ ”ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ” ہے ہم آپ میں سے ہیں اور آپ ہم میں سے ہیں، پاکستان ، ریاست مدینہ کے بعد کلمے پر بننے والی دوسری ریاست ہے، دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا کچھ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مذاکرات ہوئے تو وہ صرف پاکستان اور عبوری کی حکومت کے مابین ہوں گے،کسی بھی گروہ یا جتھے سے بات نہیں کی جائے گی، اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے، جنہوں نے اس دین کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھایا ہے ان کو جواب دینا پڑے گا۔
جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پاکستان کے قوانین کے مطابق رہنا ہوگا، افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے؟
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں حاکمیت صرف اللہ کی ذات کی ہے، یہ خوارج کون سی شریعت لانا چاہتے ہیں؟ میں اور میری بہادر فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔
آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس ریاست کے سامنے سر تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں، ہم اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں اور کامیابی ہماری ہی ہوگی۔
دہشتگردوں کے پاس ریاست کے سامنے جھکنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں
بول نیوز سے براہ راست: https://t.co/BGGN0HJy9h
#BOLNews #ArmyChief pic.twitter.com/n0z6qRtoD8— BOL Network (@BOLNETWORK) August 7, 2023
جنرل سید عاصم منیر نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج کا مقصد اور نصب العین شہید یا غازی ہے، کے پی پولیس ایک شاندار فورس ہے اور اسکی بے پناہ قربانیاں ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کی منظوری کے بعد قبائل کے انضمام کے مسائل کے حل کیلۓ ایک سیکریٹیریٹ قاُئم کیا جائے گا، ہم قبائلی عوام کی معاشی ترقی کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنائیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر نئے ضم شدہ اضلاع میں ۸۱ ارب روپے کی مالیت کے ترقیاتی اور فلاح وبہبود کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔
جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر نئے ضم شدہ اضلاع میں پولیس کے 43 منصوبوں کو سات ارب روپوں کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا اور 54 زیر تعمیر منصوبوں کے جلد مکمل ہونے میں تمام تر مدد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لئے دہشت گردی کی لہر میں حالیہ اضافہ بے سود کوشش ہے، دہشت گردوں کے پاس اب ریاست پاکستان کی عملداری تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، انشاءاللہ پاکستان میں مکمل امن بحال ہوگا جبکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔



















