Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل منتقلی کا معاملہ؛ حکومت سے جواب طلب

چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل منتقلی سےمتعلق کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایات لے کر آگاہ کرنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پرسماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے اٹک جیل میں حراست کو غیرقانونی قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل میں اے کلاس فراہم کرنے کی بھی استدعا کے ساتھ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سے طبی معائنے کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔

سماعت کے آغاز میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیرافضل مروت عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور عدالت سے کہا کہ اس عدالت نے گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی کو وکلاء سے ملاقات کی اجازت دی۔ ہم اٹک جیل گئے لیکن ہمیں چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ میں نے آرڈر میں تاخیرکردی اس لیے آپکو ملاقات کی اجازت نہیں ملی ہوگی۔

وکیل شیرافضل نے کہا کہ ہم نے چیئرمین پی ٹی آئی کا ڈاکٹر فیصل سلطان سے معائنہ کرانے کی استدعا کی ہے، ہم نے چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقات کی استدعا کر رکھی ہے، ہم چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی کیلئے محض انہی لوگوں سے ملاقات کا کہہ رہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اس ملاقات کے معاملے کو سیاسی نہ بنائیے گا کہ مجمع لگا ہوا ہو، اس کے بعد چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ جو قانون کے مطابق سہولیات بنتی ہیں وہ فراہم کی جائیں،  جو قانون کے مطابق نہیں بنتا وہ بے شک نہ دیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد کی عدالت نے چیئرمین پی ٹی کی کو سزا سنائی لیکن اسلام آباد کی اپنی کوئی جیل نہیں۔ اسلام آباد سے سزا یافتہ شخص کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جاتا ہے۔  اڈیالہ جیل میں رکھنا ہے یا کسی اورمیں، یہ طے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟

وکیل چیئرمین پی ٹی آئی شیرافضل مروت نے کہا کہ یہ طے کرنا تو انتظامیہ کا ہی کام ہے جس پرچیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ مجھے یاد آ رہا ہے میاں نواز شریف نے اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھپت جیل منتقلی کی درخواست دی تھی، نواز شریف کو اڈیالہ سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

وکیل شیر افضل نے کہا کہ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کسی جیل منتقلی کے پیچھے کوئی بدنیتی تو نہیں ہے،  چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل منتقلی کے پیچھے بدنیتی موجود ہے، اڈیالہ جیل میں اے کلاس موجود ہے لیکن اٹک جیل میں نہیں ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 بائی 11 فٹ کے ایک سیل میں رکھا گیا ہے، بارش ہوئی تو پانی چیئرمین پی ٹی آئی کے کمرے میں گیا اور وہ سو نہیں سکے، وہاں اوپن واش روم ہے اور سبھی وہی استعمال کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسارکیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل منتقلی کا فیصلہ کس نے کیا؟ جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ تو حکومت کا ہوتا ہے وزارت داخلہ ہی کرتی ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جو صورتحال یہ بتا رہے ہیں اُس طرح تو نہیں رکھا جا سکتا، سزا اپنی جگہ لیکن وہ سابق وزیراعظم اورسابق رکن پارلیمنٹ ہیں، جو سہولتیں چیئرمین پی ٹی آئی کو ملنی ہے وہ ختم تو نہیں کی جا سکتیں، جو عدالت نے سزا دی ہے وہ دیں لیکن اِس طرح کی سزا نہ دیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایات لے کر آگاہ کرنے کا حکم دیدیا۔

وکیل شیرافضل نے استدعا کی چیئرمین پی ٹی آئی کو فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پرچیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات سے متعلق آرڈر پاس کر دوں گا۔

وکیل شیرافضل مروت نے دوران سماعت وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ کی ایف آئی اے پیشی کا معاملہ اٹھا دیا، کہا کہ کل ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ میرے علم میں آیا ہے تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا۔

وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ کل ایک وکیل کو بلایا آج خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے، اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ میں انتظامی سائیڈ پراس کو دیکھوں گا، اس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی۔

وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ کیس کل دوبارہ سماعت کیلئے رکھ لیا جائے جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے وفاق اور پنجاب حکومت سے ہدایات لینی ہیں، پرسوں ہی سماعت رکھی جائے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version