Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد ہائی کورٹ؛ چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پرسماعت ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت بھی ملتوی کردی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی ٹرائل کورٹ سے سزا کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔  اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے سماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا روسٹرم پرآ ئے اوردلائل کا آغاز کیا، خواجہ حارث، لطیف کھوسہ، بابر اعوان اور دیگر وکلاء روسٹرم پر موجود تھے۔

لطیف کھوسہ نے دلائل دیے کہ میں کیس پر دلائل سے پہلے ایک معاملہ عدالت کے علم میں لانا چاہتا ہوں،  چیف جسٹس ہوتے ہوئے آپ اسلام آباد کی جوڈیشری کے والد کی طرح ہیں، وکلاء ہمیشہ عدلیہ کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے، گزشتہ روز ایک وکیل کو آٹھ گھنٹے کیلئے حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے معلوم پڑا ہے، انتظامی سائیڈ پراسکو دیکھوں گا، وکیل شیرافضل مروت نے بتایا کہ ہم گزشتہ روزعدالتی حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے گئے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، مقدمہ میں لکھا گیا ہے کہ میں نے اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر الیکشن کمیشن اورچیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ کیس کل دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرلیا جائے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی ریکارڈ آنا ہے کل سماعت تو ممکن نہیں ہو سکے گی، خواجہ حارث نے کہا کہ استدعا ہے سزا معطلی کی درخواست پر سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ جس طرح ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلا اس درخواست پر بھی روزانہ سماعت کی جائے۔

سردار لطیف کھوسہ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا آج ہی معطل کرنے کی استدعا کی، کہا کہ تین سال کی سزا مختصر سزا ہے اسے معطل کیا جا سکتا ہے، ہماری استدعا ہے کہ آج ہی چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کو آج ہی معطل کیا جائے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے ساڑھے دس بجے ٹرائل کورٹ میں جانا تھا، راستے میں مجھے میسجز موصول ہوئے، میرے منشی کو نامعلوم افراد نے ہائیکورٹ کے باہر سے اٹھا لیا، میں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک تحریری درخواست دی، میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ جج صاحب نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جج نے عدالت میں آ کر کہا کہ وہ فیصلہ سنائیں گے اور دلائل نہیں سنیں گے۔

چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ خواجہ صاحب نوٹس جاری کیا ہے جواب آ جائے تو پھر دیکھتے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہاکہ کسی گواہ نے نہیں کہا کہ جو کچھ کیا گیا وہ دانستہ اورجانتے بوجھتے تھا، اگر ایسا کچھ لکھا گیا تو وہ جج صاحب نے اپنی جانب سے ہی لکھا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آپکا کیس جلد لگا دینگے لیکن کل سماعت ممکن نہیں ہے۔ پہلے بھی بتایا ہے کہ کل نہیں ہوسکتا، پریشان نہ ہوں یہ چھٹیوں کے بعد تک نہیں جانا، چار پانچ دن میں لگ جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت ملتوی کر دی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پربھی سماعت ملتوی کی گئی۔

چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیے آفس آپکا کیس سماعت کیلئے مقرر کردے گا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version