وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ جب وزارت سنبھالی تو خارجہ پالیسی دباؤ کا شکار تھی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی کے اہداف کسی بھی قسم کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر چلانے چاہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی دباؤ میں رہی ، پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں تھا ، ماحولیاتی چیلنج اپنی جگہ موجود تھا لیکن اس کے باوجود خارجہ پالیسی نے اپنے پیشتر اہداف حاصل کئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چین کے نائب وزیر اعظم نے پاکستان کا دورہ کیا ، بیلارس اور یوکرین کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کے دورے کیے جبکہ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمارے شراکت داروں کے طور پر ساتھ رہے۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات کو ساتھ لے کر چلا جبکہ یوکرین پر پاکستان نے اپنا موقف رکھا۔ ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے وقت سے پہلے نکلے، ہم نے ایف اے ٹی ایف کے دو ایکشن پلان پیشگی مکمل کیے اور حنا ربانی کھر نے بھی اس حوالے سے بہت محنت سے کام کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حال ہی میں یورہی یونین کے ساتھ مائیگریشن پر مزاکرات مکمل کیے، اس سے بیرون ممالک پاکستانیوں کے لیے روزگار کے دروازے کھلے۔
بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی بہر صورت اولین ہے، جی ایس پی پلس اسٹیٹس بحال اور جاری ہے جبکہ افغانستان پر ہمارا موقف واضح اور صاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اسلامو فوبیا کے خلاف دن منایا، ہم نے او آئی سی کے ساتھ اسلامو فوبیا کا اقوام متحدہ میں منایا جبکہ مختلف کثیر الالجہتی فورمز پر کامیابی سے نمائندگی کی گئی۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ برس پاکستان جی 77 گروپ کا صدر منعقد ہوا، پاکستان او آئی سی کے سائنس و ٹیکنالوجی فورم کے انتخابات کامیابی سے جیتا اور اس کا سہرا ہمارے دفتر خارجہ حکام کو جاتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج گھوٹکی سے واپسی ہوئی، گھوٹکی میں عورتوں کا اپنے گھر اور اپنی زمین کا مالک بنا رہے ہیں، ساتھ ساتھ ہم نے ماحولیاتی تبدیلی کو بھی مقابلہ کیا، میں 20 لاکھ خاندانوں کو گھر بنا کر دوں گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2020 کے سیلاب میں میں پیسہ اور ریلیف نہیں دلوا سکا تاہم اب ہم گھر بھی بنا کر دے رہے ہیں، سیلاب سے سندھ کے 50 فیصد تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔
بلاول بھٹو نےکہا کہ وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں کہ ان کے تعاون سے اپنی زمین اپنا مکان کا پروگرام چلا رہے ہیں، ہم نے دفتر خارجہ میں اصلاحات متعارف کرائیں ، فارن سروس اکیڈمی کو بہتر بنایا ہے جبکہ ہم نے دفتر خارجہ کے الاونسز کو بھی بہتر کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم اور اسحاق ڈار کے شکر گزار ہیں کہ ان کہ مدد سے دفتر خارجہ ملازمین کو ان کا حق دلایا، ہم عام عوام کے لیے قونصلر سروسز کا دائرہ پھیلا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ گوادر، سکھر، ملتان، جنوبی پنجاب اور دیگر شہروں میں قونصلر سروس کے حوالے سے دفاتر بنا رہے ہیں، جیسی فارن سروس مجھے ملی اس سے بہت بہتر حالت میں چھوڑ کر جا رہا ہوں، امید ہے کہ تمام ممالک سے پرخلوص رابطے پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔



















