چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی مکمل ذمہ داری سپریٹنڈنٹ جیل پرہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت جاری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزارکے وکلاء کے مطابق ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا، کیا وجہ بنی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ کی بجائے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اڈیالہ جیل حساس نوعیت کی جیل ہے جہاں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں، سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ تمام چیزیں آپ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کو بھی فراہم کریں، کیا جیل میں وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 7 اگست کو ایک وکیل کو جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی، وکیل نے چیئرمین پی ٹی آئی سے وکالت نامے پردستخط کرائے، جیل سے واپس آ کر وکیل نے کہا کہ وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ جیل میں وکلا سے ملاقات کا کیا طریقہ کار ہے؟ میں سمجھنا چاہ رہا ہوں، جب کہا جاتا ہے کہ ملنے نہیں دیا گیا تو اُس سے تاثر غلط جاتا ہے، پھر توہین عدالت کی کارروائی ہوتی ہے وہ پھر اچھا نہیں لگتا، تمام سرکاری افسران ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی یہ ملاقات کرنے کیلئے 4 بج کر 45 منٹ پرگئے، وکیل پنجاب نے کہا کہ اتوار کے علاوہ باقی تمام دنوں میں صبح 8 سے 2 بجے تک ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔
بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہمارے 180 کیسز چل رہے ہیں اورمیں نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ہدایات لینی تھیں، جس پرعدالت نے کہا کہ اتنے کیسز چل رہے ہیں تو وکلاء نے ملاقات تو کرنی ہی ہوگی۔ اب وکلاء جائیں اور ملاقات نہ ہو پرچہ ہو جائے تو یہ اچھا تو نہیں لگتا نہ۔
چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ صبح 8 سے 2 بجے تک کوئی ملاقات کیلئےآئے تو کوئی قباحت تو نہیں؟ وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے اور اس میں کی جانے والی غلط بیانی کے نتائج ہونگے۔ وکیل پنجاب حکومت کہہ رہے ہیں کہ میں گزشتہ روز پونے پانچ بجے اٹک جیل پہنچا، گزشتہ روز ڈیڑھ بجے اٹک جیل کے باہر میڈیا کو انٹرویو دیا۔
وکیل پنجاب نے کہا کہ ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں کیس چل رہا تھا اور ہم دونوں وہاں موجود تھے، جس پرعدالت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ ساتھ ہی وہ سزا یافتہ بھی ہیں دونوں چیزوں کو برابری کی بنیاد پر لے کر چلنا ہے۔
وکیل شیرافضل نے دلائل میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کس کلاس میں رکھنا ہے، سات دن میں یہی فیصلہ نہیں ہو سکا، یہ کام ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ کے جج کا کام ہوتا ہے، ٹرائل جج، سپریٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی کمشنر نے کلاس کی سفارش کرنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے کی وجوہات مضحکہ خیر ہیں، جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں تو چیئرمین پی ٹی آئی کے آنے سے کیا فرق پڑ جائے گا؟
وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اڈیالہ جیل سیکیورٹی کے حوالے سے سب سے مستحکم جیل ہے، رولز کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا ہی نہیں جا سکتا تھا، جس پرچیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
نمائندہ حکومت نے جواب دیا کہ ڈسٹرکٹ اسپتال میں معائنہ کے بعد ہی اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف سے انکے وکیل ڈاکٹر عدنان روزانہ ملتے تھے، جس پرچیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ایک اور ہائی پروفائل قیدی کو اپنے ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت نہیں تھی؟
وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے، جس پروکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ آپ اڈیالہ جیل سے ریکارڈ منگوا لیں معلوم پڑ جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی کو انکا اپنا ڈاکٹر چیک کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ اتنا تنگ کیوں کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات اورسہولیات سے متعلق میں آرڈر کروں گا، چھوٹی چھوٹی چیزوں پراس طرح کی شرائط عائد نہ کریں، میں نے کہا تھا کہ دو تین وکلاء ملاقات کیلئے جایا کریں زیادہ نہیں، دو چار لوگوں سے کیا فرق پڑتا ہے سو پچاس جائیں تو پھر الگ بات ہے۔
شیرافضل نے کہا کہ نیب کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج ہو گئی ہے، نیب اب چیئرمین ہی ٹی آئی کو اپنی حراست میں لے کر ریمانڈ لینا ہے، ہم گزشتہ روز بشری بی بی کے ساتھ گئے اُنکی ملاقات ہو گئی لیکن ہمیں ملنے نہیں دیا گیا، پولیس نے کہا کہ ایک دن میں ایک ہی ملاقات ہوسکتی ہے، واپسی پر ہمیں وکلاء کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، عدالتوں سے ہم ریلیف اسی لئے لیتے ہیں کہ ہماری عزت بچی رہے۔ عدالت اگرسختی نہیں کریگی تو یہ اسی طرح حقوق پامال کرتے رہیں گے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوئی دوائیاں وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں؟ کیا انہیں جیل میں ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں؟
وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے جیل میں پانچ ڈاکٹر موجود ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں گھرکے کھانے کی اجازت کی بھی استدعا ہے، وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ گھرکا کھانا محفوظ نہیں ہے، اجازت نہیں دی جا سکتی۔
چیف جسٹس عامرفاروق نے پوچھا کہ کیوں گھر کا کھانا محفوظ کیوں نہیں ہے؟ وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی خود بار بار کہہ چکے ہیں کہ سلو پائزن کیا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ایک اور ہائی پروفائل قیدی کو بھی جیل میں گھرکا کھانا کھانے کی اجازت تھی، وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ میں نے معلوم کیا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے الگ سے باورچی رکھا گیا ہے۔ باورچی کھانا وہی بناتا ہے جو باقی قیدیوں کا بنتا ہے لیکن الگ سے بناتا ہے۔
وکیل شیرافضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے کا جواز بہت مضحکہ خیز ہے۔
وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیا کہ رولزکے مطابق اے کلاس ختم ہو چکی ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں بی کلاس اور بیٹر کلاس بھی موجود ہے۔
عدالت نے کہا کہ روزانہ ملاقات نہ کرائیں کہ مناسب اجازت دینے میں کوئی قباحت نہیں، ہفتے میں دو تین بار اگر ملنے دیں تو اس میں کیا مسئلہ ہے،
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت حکومت پنجاب کے نمائندہ سے چیئرمین پی ٹی آئی کے کھانے سے متعلق بیان حلفی لے، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ کو خدشہ ہے کہ انہیں کھانے میں زہر دیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل پنجاب حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے اہم ترین ریمارکس دیے کہا کہ یہ بات یاد رکھیں کہ وہ آپکی حراست میں ہیں اور آپکی ذمہ داری ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی مکمل ذمہ داری سپریٹنڈنٹ جیل پرہے،وکلا و فیملی سے ملاقات اور سہولیات سے متعلق مناسب آرڈر جاری کروں گا۔
پنجاب حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ ایک میڈیکل افسر اور ایک ڈی ایس پی کھانا پہلے چیک کرتے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
