Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پراسیکیوٹرجنرل پنجاب کیخلاف کارروائی سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع

لاہورہائی کورٹ نے پراسیکیوٹرجنرل پنجاب کیخلاف کارروائی سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کر دی۔

لاہورہائیکورٹ میں حکومت پنجاب کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کام سے روکنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کے خلاف کارروائی سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کر دی۔

عدالت نے سیکریٹری پراسیکیوشن کیا جانب سے بھجوایا گیا شوکاز نوٹس معطل کردیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے سماعت کریں گے۔

چوہدری خلیق الزمان کے وکیل احمد عمر ثاقب دلائل دیے، کہا کہ پنجاب حکومت نے تین سالہ مدت کے لئے عہدے پر تعینات کیا۔ نگران حکومت نے مختلف مقدمات میں من پسند موقف عدالت پیش کرنے کی ہدائت کی۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پراسیکیوٹر جنرل نے حکومت کو آگاہ کیا کہ وہ قانون کے تابع عدالتی معاونت کے پابند ہیں۔ نگران حکومت نے آتے ہی سیاسی بنیادوں پر کام سے روکتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔نگران حکومت کو عہدے سے ہٹانے، معطل کرنے یا شوکاز نوٹس دینے کا اختیار نہیں۔

وکیل نے استدعا کی کہ عدالت معطلی اور شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عہدے پر بحالی کا حکم دے۔ جس کے بعد عدالت نے ایڈووکیٹ طارق کمال قاضی کو عدالتی معاون مقررکردیا۔

عدالت نے سوال کیا کہ پراسیکیوٹر ایکٹ کے تحت کہاں تک آزاد ہے، حکومتی ہدایات پر قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے کہاں تک عمل درآمد کا پابند ہے، کیا حکومت پیڈا ایکٹ کے تحت پراسیکیوٹر کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ پراسیکیوٹر قانون کے تحت کس حد تک غیر جانبدار رہ سکتا ہے، کیا نگران حکومت پراسیکیوٹرکے خلاف اقدامات کے سکتی ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں