Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کا بحری قوانین کی اہمیت سے متعلق تقریب کا انعقاد

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کی جانب سے بحری قوانین کی اہمیت اور مضمرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز نے کراچی میں گزشتہ روز “بحری قوانین کی اہمیت اور مضمرات” کے حوالے سے تقریب منعقد کی۔ تقریب کا آغاز وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) احمد سعید ایچ آئی (ایم)، ڈائریکٹر جنرل، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جنہوں نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

تقریب میں قانونی ماہرین، پالیسی سازوں، اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بین الاقوامی کنونشنز، قومی ضوابط، ماحولیاتی تحفظ، ماہی گیری، اور حفاظتی اقدامات سمیت بحری قوانین کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالی جب کہ ماہرین نے بحری قزاقی، دہشت گردی اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف بحری تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانونی ڈھانچے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

قانونی اسکالرز، پالیسی سازوں، اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے پائیدار ماہی گیری کے قیام اور انتظام کے لیے استعمال کیے گئے قانونی طریقہ کار اور فریم ورک کا مطالعہ کیا۔  اس کے علاوہ ماہرین نے سمندری سرگرمیوں کے لیے ایک جامع قانونی ڈھانچہ کے قیام کے لیے بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز جیسے یو این سی ایل او ایس (اقوام متحدہ کے قانون برائے سمندر) کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ میری ٹائم سمندری حدود کی حفاظت اور عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اپنے جہازوں کے وسیع تر نیٹ ورک کے ذریعے عالمی تجارت کا 80 فیصد سے زائد کا حصہ لے جاتا ہے، ایسے میں اقتصادی اہمیت کے ساتھ سمندری سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے والا قانونی فریم ورک بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

شرکاء نے ماہی گیری کے شعبے اور سمندری قانون کی کثیر الجہتی نوعیت پر زور دیا ، جس میں قانونی، اقتصادی، ماحولیاتی اور جغرافیائی سیاسی تحفظات شامل تھے۔ پینلسٹس نے حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، صنعت کے اسٹیک ہولڈرز اور قانونی ماہرین کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہم آہنگ سمندری ضوابط اور ان کے نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں