Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تھائی رائیڈ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے یہ ورزشیں آزمائیں

صحت مند  رہنے کے لیے جسم کے تمام افعال کے ساتھ مختلف غدود اور ان سے خارج ہونے والے ہارمون کے تناسب کا بہتر ہونا نہایت ضروری ہے کسی بھی ایک عضو یا غدود سے خارج ہونے والے ہارمون کی کمی صحت کو متاثر کرتی ہے ان ہی میں تھائی رائیڈ بھی شامل ہیں۔

تھائی رائیڈ ایک چھوٹا اینڈوکرائن غدود ہے جو گردن میں موجود ہوتا ہے۔ یہ غدود ایک طرح کے ہارمون کا خراج کرتا ہے جو دل، دماغ، جگر، گردے، شریانوں کے نظام، بلڈ پریشر، نظام ہاضمہ، اور میٹابولزم کی نشوونما اور انہیں صحت مند رکھنے مدد فراہم کرتا ہے۔

تھائیرائیڈ کی دو الگ الگ قسمیں ہیں جیسے ہائپر تھائی رائیڈزم اور ہائپوتھائی رائیڈازم کہاجاتا ہے۔ تقریباً ہر بیماری میں ادویات کے ساتھ کچھ دیگر طریقے بھی ہوتے ہیں جو مرض کو ٹھیک کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں انہی میں ورزش بھی شامل ہے۔

ورزش تھائی رائیڈ کی حالت کو بہتربنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے یہ اس مرض کی بنیادی وجہ کا توعلاج نہیں کرتی لیکن اس کی علامات جیسے اضطراب، وزن بڑھنا، تناؤ، مزاج کا اتار چڑھاؤ اوربے خوابی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ہلکی پھلکی ورزش سے آغاز کریں

یوگا اور پائی لیٹس ورزش کور مسلز کو بہتر بنانے کے لیے ایک عمدہ انتخاب ہے جو تھائی رائیڈ کے صورت میں کمراور کولہے کے درد کو کم کر کے آرام پہنچاتی ہیں اورساتھ ہی سانس لینے میں آسانی بیدا کرتی ہیں۔

طاقت بڑھانے والے ورزش

وزن اٹھانا اور جسمانی وزن کو اعتدال میں رکھنے والی ورزش جیسے اسکواٹس، پش اپس اور پیروں کو اوپر اٹھانے والی ورزشیں کافی کار آمد ثابت ہوتی ہیں۔

ایروبک ورزش

ایروبک ورزش جیسے واکنگ، سائیکلنگ یا مشینوں پر کی جانے والی کم  شدت کی ورزشیں بہترین ثابت ہوتی ہیں۔

ورزشوں کو بلتے رہیں

تھائی کو منظم کرنے کے لیے ورزش سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کسی ایک ورزش کی پابندی کے بجائے انہیں بلدتے رہیں تاکہ ہر طرح کی ورزش سے حاصل ہونے والے فائدے ملتے رہیں۔

کسی ماہر سے رابطہ کریں

اگر آپ ورزش کے آغاز کے بارے میں کسی حد تک پریشان ہیں تو ایسی صورت میں کسی ماہر ٹرینر سے رابطہ کریں۔

اپنے جسم کی آواز سنیں

اگر آپ ورزش کے دوارن اور بعد میں کسی بھی بے آرامی یا اضطراب کو محسوس کرتے ہی تو فوراً ورزش کے دورانیے کو کم کر دیں یا روک دیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں