محمد یونس ڈاگھا نےکہا ہے کہ کراچی ہماری معاشی شہ رگ ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران صوبائی وزیرِ خزانہ، ریونیو و منصوبہ بندی و ترقیات سندھ محمد یونس ڈاگھا کی زیرِ صدارت کراچی شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سیوریج کی نکاسی اور کچرے کی صفائی کے نظام کا جائزہ لینے کے لئے متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ ایک اہم اجلاس آج محکمہ خزانہ سندھ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں نگران صوبائی وزیر یونس ڈاگھا نے شہر کے لئے واٹر سپلائی اور سیوریج ٹریٹمنٹ اسکیموں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی (PSDP) میں کے-4 کے لئے درکار فنڈز کو کٹوتی کرکے فراہمی سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔
اجلاس میں نگران صوبائی وزیر یونس ڈاگھا نے شہری سیوریج اور صنعتوں کے سیوریج کے لئے کمبائنڈ ایفولنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ پر ابتک کام نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔
یونس ڈاگھا نے کہا کہ کے-4 پراجیکٹ پر عملدرآمد میں تاخیر سے شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
انہوں نے ہدایات دیں کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کمپنی (KW&SC) کے-4 پراجیکٹ کو تیز تر بنیادوں پر تعمیر کرنے کے لئے فوری اقدامات عمل میں لائے۔
محمد یونس ڈاگھا نے یہ بھی کہا کہ کراچی کو 650 ملین گیلن ڈیلی (MGD) پانی فراہمی کے منصوبے کے-4 جس کے پہلے فیز جس میں شہر کو 260 ایم جی ڈی پانی مہیا ہونا تھا کا ابتک مکمل نہ ہونا افسوسناک ہے۔
نگران صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فنڈز کی کمی کو دور کرنے کے لئے وفاقی حکومت سے کم ازکم 25 بلین روپے فراہمی کیلئے رابطہ کیا جائے۔
یونس ڈاگھا نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کمپنی کو ہدایت کی کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کو کم ترین مدت میں شروع اور مکمل کرنے کے لئے اسکیم فوری طور پر محکمۂ منصوبہ بندی و ترقیات کو بھیجی جائے۔
نگران صوبائی وزیر نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔
محمد یونس ڈاگھا نے ہدایت کی کہ سالڈ ویسٹ منصوبے میں شامل کنٹریکٹر کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے قواعد کے مطابق تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ سسٹم کا جلد از جلد نفاذ کیا جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ سسٹم کی رپورٹ کی روشنی میں کنٹریکٹر کو ادائیگی کی جائے۔ اور ناقص کارکردگی والے کانٹریکٹرز کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔
محمد یونس ڈاگھا نے کہا کہ شہر کے ماحول کو صاف کرنے کے لئے کچرے سے بجلی بنانے اور کچرے کی ری سائیکلنگ کے مںصوبوں پر بھی کام کی رفتار بڑھائی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی ہماری معاشی شہ رگ ہے اور یہاں پینے کے صاف پانی، سیوریج نکاسی اور دیگر خدمات کی فراہمی متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔
نگران صوبائی وزیر محمد یونس ڈاگھا نے کہا کہ کوشش ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹوں کو دور کرکے انہیں وقت پر مکمل کیا جائے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے متعلقہ افسران کو تندہی سے فرائض نبھانے ہوں گے۔



















