نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ضروری نہیں امریکا سے ہرمعاملے پراتفاق ہو، ممالک کے درمیان امور پر اتفاق اور اختلاف رہتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا سے ملاقات کے بعد نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور عوام کے درمیان ایسے سماجی معاہدے پریقین رکھتے ہیں جہاں حقوق کا تحفظ ہو، ہرذمے دارمعاشرے کی طرح ہم بھی اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ باقی ممالک کیلئے امریکی ترقی سےسیکھنےکیلئے مواقع ہیں۔ امریکا کےساتھ ملکرپاکستان نےایک طویل جنگ لڑی ہے، ہم نےملکرعالمی امن کیلئےبہت اہم کردارادا کیاہے، امریکا کےساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ امریکی معاشرہ ایک متنوع حیثیت کا حامل ہے، پہلےہمارے پڑوس میں ایک بڑی پاورروس موجود رہا، امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کابڑااتحادبھی ہمارے پڑوس میں رہا۔ جغرافیائی محل وقوع، عالمی طاقتوں کی ہمارے پڑوس میں موجودگی کا ہم پرگہرا اثرہوا۔
انھوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کےمنفی اثرات کےمقابلہ کیلئےامریکاسےقریبی تعاون ہے۔ ضروری نہیں امریکا سے ہر معاملے پر اتفاق ہو، امریکا کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلق ہے، ممالک کے درمیان امور پر اتفاق اور اختلاف رہتاہے۔
انوارالحق کاکڑنے کہا کہ مجھےنہیں معلوم آئی ایم ایف کوایک دشمن کی طرح کیوں پیش کیاجاتاہے۔ بڑامسئلہ ہمارےوسائل، اخراجات میں توازن نہ ہونا ہے، پاکستانی ڈاکٹرزامریکی معاشرے میں ہماری پہچان ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹرزاپنی مہارت کی وجہ سےدنیامیں جانےجاتےہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















