نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ سے محصولات میں کمی اور ملکی زرمبادلہ پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں انوار الحق کاکڑ کو ملک بھر بالخصوص سرحدی علاقوں میں مختلف اشیاء کی اسمگلنگ کی صورتحال اور روک تھام کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اسمگلنگ کے خلاف حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا جبکہ اجلاس میں نگراں وزیراعظم کو اسمگلنگ میں ملوث سرکاری افسران کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کسٹمز حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک سے چینی، پٹرولیم مصنوعات، یوریا، زرعی اجناس اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ کے سختی سے سد باب کی ہدایت کی۔
انوار الحق کاکڑ نے ہدایت جاری کی کہ بلوچستان میں اسمگلنگ میں ملوث سرکاری افسران کی انٹر ایجنسی رپورٹ مرتب کی جائے، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کی کارکردگی جانچنے کے لیے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی خود صدات وہ خود کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملکی معیشت کے مجموعی حجم کو اسمگلنگ کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسمگلنگ کے اس ناسور کو ملک سے ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ سے محصولات میں کمی اور ملکی زرمبادلہ پر شدید دبائو پڑتا ہے۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اجلاس میں ہدایت کی کہ ایران کے ساتھ بارڈر مارکیٹ میکنزم کو مستحکم کیا جائے تاکہ دو طرفہ تجارت باقاعدہ دستاویزی عمل سے ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز، نگراں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی، نگراں وزیر برائے پٹرولیم محمد علی، مشیر وزیراعظم احد چیمہ، وفاقی سیکریٹریز، چیئرمین ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبائی چیف سیکریٹریز اور آئی جی پولیس نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔



















