خیرپور: رانی پور میں تشدد سے جاں بحق ہونے والی کمسن ملازمہ فاطمہ کے کیس میں مرکزی ملزم اسد شاہ کا ڈی این اے میچ نہ ہو سکا۔
تفصیلات کے مطابق رانی پور میں بااثر پیر اسد شاہ کی حویلی میں تشدد سے کمسن بچی فاطمہ کی ہلاکت کے کیس میں مرکزی ملزم اسد شاہ کے ڈی این اے سیمپلز لیے گئے تھے جو میچ نہیں ہوسکے ہیں، تاہم ڈاکٹرز نے ڈی این اے کے سیمپلز تبدیل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نگران وزیر صحت کے حکم پر مرکزی ملزم پیر اسد شاہ کے ڈی این اے کے نمونے دوبارہ لے لئے گئے ہیں، ڈی این اے کے نمونے آئی سی سی ڈی لیب کراچی میں لئے گئے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ پہلے لئے گئے ڈی این اے سیمپل میں مسئلہ تھا اس لئے محکمہ صحت نے اپنی لیب میں خود ڈی این اے کے سیمپل لئے ہیں۔
گزشتہ روز اے ایس پی گمبٹ نعمان ظفر کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے ملزم اسد شاہ کو مزید تفتیش کے لیے کراچی منتقل کردیا تھا۔
یاد رہے کہ مذکورہ مقدمے میں نامزد حنا شاہ اور فیاض شاہ تاحال مفرور ہیں، پولیس کی جانب سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
واضح رہے کہ 16 اگست کو خیرپور میں واقعہ پیش آیا، جہاں بااثر پیر کی حویلی میں 10 سالہ بچی فاطمہ پراسرار طور پر جاں بحق ہوگئی، بچی کی لاش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
