Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی ایم ایف کا نگران حکومت سے اخراجات میں کمی کا مطالبہ

علامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے نگران حکومت سے اخراجات میں کمی اور سرکاری کمپنیوں کی نجکاری تیز کرنے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے نگران حکومت سے اسٹینڈ بائی پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد کا مطالبہ کر دیا جن میں اخراجات میں کمی، اداروں کی نجکاری اور 203 سرکاری کمپنیوں کو منسٹریز سے نکال کر وزارت خزانہ کے ماتحت کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت 203 کمپنیز کو وزارت خزانہ کے کنٹرول میں دینا ہے، کمپنیز کا انتظام لائن منسٹریز کے پاس ہونا بہتری میں رکاوٹ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر میں جنکوز اور ڈسکوز میں ناقص گورننس کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوا، پیٹرولیم ڈویژن کی تیل و گیس کی منافع بخش کمپنیوں کو بڑے خسارے کا سامنا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اسی طرح آئی ایم ایف رواں مالی سال پی آئی اے، اسٹیل مل ، آر ایل این جی پاور پلانٹس اور ڈسکوز کی نجکاری چاہتا ہے۔

علاوہ ازیں کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری اور تنظیم نو کے حوالے سے رکاوٹوں کے حل کے لیے تکنیکی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اوروزارت ہوا بازی کو نجکاری کمیشن کے ساتھ مل کر واضح ٹائم فریم ورک کے ساتھ تفصیلی ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈسکوز کی انتظامیہ میں نجی شعبے کو شامل کرنے کا قابل عمل منصوبہ پیش کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے اور نگران وزیر توانائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی میں سیکرٹری نجکاری کمیشن، اسپیشل سیکرٹری خزانہ اور نیپرا کے ممبر شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں