راولپنڈی ڈویژن میں چینی کی زخیرہ اندوزی کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
راولپنڈی انتظامیہ کی جانب سے شوگر اور چاول کی زخیرہ اندوزی کرنے والوں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، اس سلسلے میں انتظامیہ نے کئی گوداموں میں ریڈ کرکے غیرقانونی طور پر چینی اور چاول زخیرہ کرنے والوں کو گرفتار کرکے گوداموں کو سیل کر دیا جبکہ بھاری جرمانے عائد کرنے کیساتھ ساتھ چینی اور چاول کی بڑی تعداد قبضے میں لے لی۔
اے سی سٹی کی جانب سے راولپنڈی کے دو گوداموں پر ریڈ کرکے اُنہیں سیل کردیا گیا اور ہزاروں من زخیرہ کی گئی چینی برآمد کر لی گئی۔
چکوال اور تلہ گنگ میں بھی ضلع انتظامیہ کی جانب سے آپریشن کا آغازکی گیا اور بڑی تعداد میں زخیرہ کی گئی چینی برآمد کی گئی۔
عبدالوحید نامی شخص کے گودام حق ٹریڈرز تلہ گنگ روڈ چکوال پر ریڈ کیا گیا اور 174,550 کلو چینی برآمد کی گئی۔
رحمال علی کے گودام بنجرا تلہ گنگ میں ضلعی انتظامیہ نے ریڈ کرکے 50,000 کلو زخیرہ کی گئی چینی برآمد کی۔
اسی طرح صادق آباد لاوہ تلہ گنگ گودام سے 25,000 کلو اور عرفان گودام پجنند تلہ گنگ سے 15,000 کلو زخیرہ شدہ چینی برآمد کی گئی۔
شوگر مافیا کیخلاف راولپنڈی ڈویژن کی انتظامیہ کی کاروائی سے اہلِ علاقہ بہت خوش ہیں۔
چینی برآمد کرنے پر پابندی لگادی
دوسری جانب ملک میں چینی باہر سے منگوانے کے باعث چینی کی قیمتیں مزید بڑھنی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے برازیل میں پاکستانی کمرشل اتاشی کو ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی امپورٹ کرنے کیلئے خط لکھا ہے۔
محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق امپورٹڈ چینی 220 روپے کلو کے حساب سے پاکستان میں منگوائی جا رہی ہے، محکمہ خوراک کے پاس اس وقت 10لاکھ ٹن سرپلس چینی کا کیری فارورڈ موجود ہے، محکمہ خوراک کو سرپلس چینی کے ذخائر استعمال کرنا پڑیں گے۔
محکمہ خوراک کے ذرائع نے بتایا کہ سرپلس چینی کے ذخائر ختم کرنے سے امپورٹڈ چینی مارکیٹ میں آجائے گی جس سے شہری 100روپے کلو سرکاری نرخ والی چینی 220روپے کلو میں خریدنے پر مجبور ہوں گے۔
محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق شہریوں کو ایک کلو چینی پر 120 روپے زیادہ ادا کرنا پڑیں گے۔



















