نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام شہریوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں نگران وزیراعظم کو آئی ٹی، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع بالخصوص دیامر اور استور کے اضلاع میں تعلیم کے شعبے کے کئی مسائل کی بروقت نشاندہی اور موثر حل کیے جا چکے ہیں۔
بریفنگ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی شعبے میں لیے گئے اقدامات میں طلباء کو غذا کی فراہمی کے پروگرام، تعلیمی عمارتوں کی از سر نو تعمیر اور شکستہ حال عمارتوں کی بحالی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سمارٹ سکولوں کی تعمیر وغیرہ سر فہرست ہیں۔
نگران وزیراعظم کو بریفنگ میں گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے میں لیے گئے مثبت اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ گلگت بلتستان میں نفسیاتی امراض کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سد باب کے لیے 24 گھنٹے فعال رہنے والی ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں گندم کی کاشت اور اس کی پیداوار پر سبسڈی کی فراہمی، گلگت بلتستان میں پن بجلی کی پیداوار کی حقیقی استعداد اور موجودہ پیداوار اور بجٹ کی صورت حال پر بھی بریف کیا گیا۔
نگران وزیراعظم نے گلگت بلتستان انتظامیہ اور سیاسی قیادت کو تمام موجودہ ترقیاتی منصوبوں کی افادیت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے متعلقہ حکام کو گلگت میں مذہب کے نام پر انتشار پھیلانے والے تمام افراد کی بروقت نشاندہی اور ان کے خلاف سخت اقدامات لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے،مذہب کے نام پر انتشار پھیلانا ناقابلِ برداشت ہے اور ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، نگران وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، آئی جی گلگت بلتستان اور متعلقہ اعلیٰ افسران شامل تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















