Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

’’کراچی میں چھالیہ والا بھی پولیس کو دو کروڑ دے دیتا ہے‘‘

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں چھالیہ والا بھی پولیس کو دو کروڑ دے دیتا ہے، شکارپور، کندھ کوٹ، کشمور میں بھی تو چھالیہ والا نہیں ہے۔ 

سندھ ہائیکورٹ میں تھانہ آرام کی حدود میں زیادتی کے کیس میں ملزم ناظم کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ عدالت کے حکم پر آئی جی سندھ رفعت مختار پیش ہوئے۔

جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ آئی جی صاحب پچھلے پندرہ سالوں جو تباہی سندھ میں ہوئی ہے کہیں بھی نہیں ہوئی، معلوم نہیں چار چھ مہینے بعد آپ کہاں ہوں گے مگر جاتے جاتے سندھ کے عوام پر احسان کرجائیں۔

عدالت نے آئی جی سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کو تفتیش کے لیے ایک ہاتھ سے چیک دیا جاتا ہے دوسرے ہاتھ سے لے لیا جاتا ہے، زیادتی کے کیسز میں نا تفتیش ہوتی ہے نا شناخت پریڈ،  تفتیشی افسران کہتے ہیں ہمیں فنڈز ہی نہیں ملتے تفتیش کے لیے پیسہ اپنی جیب سے کیوں لگائیں۔

جسٹس امجد علی سہتونے کہا کہ تفتیش کے لیے فنڈزہرضلع کو دہنےکے بجائے براہ راست تھانے کو کیوں نہیں دیے جاتے؟ تھانے کو تفتیش کے لیے پیسہ دیں گے تو ان سے جواب طلبی بھی ہوگی، سندھ کے لوگوں کی آپ پر نظریں ہیں۔

آئی جی سندھ نے جواب دیا کہ دو چارمہینے کے بعد سندھ میں چیزیں تبدیل ہوتی نظر آئیں گی، پولیس میں مانیٹرنگ کا میکنزم بنادیا ہے، پورے صوبے میں میں خود مانیٹرنگ کروں گا، فنڈز کی مانیٹرنگ بھی میں خود کروں گا۔

جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ اس کیس میں ہم تفتیشی افسر سے پوچھا اس ملزم کو کیوں گرفتار کیا؟  تفتیش افسر نے جواب دیا اس کا بڑا بھائی ڈاکے مارتا تھا اس لیے اس کو بھی گرفتار کیا، پچھلے 15 سالوں میں سندھ میں بہت تباہی ہوئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ شکارپور، جیکب آباد، کندھ کوٹ، لاڑکانہ اور دیگر شہروں کا تو اور بھی برا حال ہے،  پولیس سمیت ہر محکمے میں 5 ہزار میں سے 2 ہزار ڈیوٹی پر ہوتے ہیں باقی ویزا لے کر ملک سے باہر ہوتے ہیں، کوئی ویزا لے کر لندن چلا جاتا ہے کوئی پیرس چلا جاتا ہے، پولیس والے، ٹیچر، ڈاکٹرز تقریباً سارے محکموں سے سرکاری ملازم ویزا لے کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔

جسٹس امجد علی ستہونے ریمارکس دیے کہ یہ تو صوبے کا حال ہوگیا ہے، کراچی میں تو پھر بھی تفتیشی افسران کچھ نہ کچھ کرلیتے ہیں، کراچی میں چھالیہ والا بھی پولیس کو دو کروڑ دے دیتا ہے، شکارپور، کندھ کوٹ، کشمور میں بھی تو چھالیہ والا نہیں ہے، سندھ میں قتل کیس کی ٹھیک سے تفتیش نہیں ہوتی، بکری، بھینس چوری ڈکیتی کیسز کی کیا تفتیش ہوگی، عدالت ملزمان کے خلاف فائل دیکھتی رہ جاتی ہیں، کہیں شواہد ہی نہیں ملتے۔

انھوں نے ریمارکس دیے کہ ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جاتے ہیں ملزمان کے خلاف عدالت میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے جاتے، جب ملزم چھوٹ جاتے ہیں تو دوسرے دن بیان آجاتا ہے، ہم پکڑتے ہیں عدالت ملزم چھوڑ دیتی ہے، ہم بھی اسی سوسائٹی کا حصہ ہیں ملزمان کو سزا دینا چاہتے ہیں، مگر کیا کریں جب شواہد ہی نہیں آتے تو ملزمان کو کیسے جیل میں رکھیں۔

آئی جی سندھ رفعت مختار نے جواب دیا کہ مجھے سندھ میں 20 دن ہوئے ہیں بہت ساری چیزیں میری سمجھ آ گئی ہیں جس پرعدالت نے کہا کہ بس آپ یہاں سے شروعات کریں اور تفتیش کے نظام کو بہتر کریں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ تفتیشی افسران کے لیے اسپیشل الائونس مقرر کردیا گیا ہے، تفتیشی افسران کو تنخواہ کے ساتھ الائونس ملا کرے گا، اب ایسا نہیں ہوگا، ایک ہاتھ سے چیک دے کر دوسرے ہاتھ سے لے لیا جائے گا۔

جسٹس امجد سہتو نے کہا کہ آپ کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر تفتیشی افسران سے پیسے لے لیتا ہے، تفتیشی افسران کی ٹریکنگ کا آپ کے پاس کوئی نظام نہیں توعدالت آپ کی مدد کرسکتی ہے۔ تفتیش کے فنڈز اگر براہ راست تھانے کو دے دیں گے تو سندھ کی قسمت بدل جائے گی۔  ملزمان کی شناخت پریڈ کو یقینی بنایا جائے تو کچھ نا کچھ تو بہتر ہوسکتا ہے۔

آئی جی سندھ نے تفیش میں خامیوں کو دورکرنے کی یقین دہانی کرادی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version