مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو ایک دلدل کی طرف دھکیلا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے قلعے میں شگاف ڈالنے والے لوگ آج بھی دنیا بھر میں مصروف ہیں، سال 1974 میں عقیدہ ختم نبوت کے خلاف سازش کو کچلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت کی متفقہ ترمیم منظور کی گئی ہے، عالمی برادری کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے متفقہ ختم نبوت کے قانون کا احترام کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ آج پاکستان پر دباؤ ہے قادیانیت کے حوالے سے کہ ختم نبوت کا قانون واپس لیا جائے اور پاکستان کے اداروں اور حکومتوں کے اوپر دباؤ ہے کہ 1974 کی ترمیم کو واپس لے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری ملکی معیشت کو جس طرح زمین بوس کیا گیا اس کی نظیر نہیں ملتی جبکہ پاکستانی عوام کو ایک دلدل کی طرف دھکیلا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو حکومت سامنے نظر آتی ہے اس پر الزام آتا ہے یہ نہیں دیکھتے معیشت کو یہاں کس نے پہنچایا، آج اسٹیٹ بینک وزیراعظم اور پارلیمینٹ کو جواب دہ نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے سب سے بڑے ریاستی بینک کو براہ راست آئی ایم ایف کے تابع کیا گیا، آئی ایم ایف کے تابع ہوکر آپ کسی چیز کی قیمت نہیں بڑھا سکتے۔
جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کا مذہبی تشخص ختم کردیا گیا ہے، ان حالات سے نکلنا ہے کہ نہیں یہ سوال اہم ہے، عوام جن سے امید لگائے بیٹھے ہیں ان کے پاس ان حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں


















