لیسکو ریجن میں بجلی چوروں کے خاتمہ کے لیے نویں روز بھی آپریشن جاری، چیف ایگزیکٹو انجینئر شاہد حیدر کا کہنا ہے کہ بجلی چور قومی خزانے کا دشمن ہیں۔
ترجمان لیسکو کے مطابق نویں روز کے آپریشن کے دوران تمام سرکل میں 304کنکشنز بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔ تمام بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آرز کی درخواستیں متعلقہ تھانوں میں دائر کر دی گئی ہیں جن میں سے149ایف آئی آرز رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔
ترجمان لیسکو کا کہنا ہے کہ 20 ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیاہے، پکڑے جانے والے کنکشنز میں 1 انڈسٹریل، 5زرعی، 12کمرشل اور286ڈومیسٹک تھے۔ تمام کنکشنز منقطع کر کے ان کو711109 یونٹس ڈٹیکشن بل کی مد میں چارج کئے گئے ہیں۔
لیسکو کے ترجمان کے مطابق جن کی رقم 30,205,018 (تین کڑوردو لاکھ پا نچ ہزاراٹھارہ)روپے ہے۔ بجلی چوروں کیخلاف کئے جانے والے آپریشن میں بڑے زرعی اور کمرشل صارفین بھی بجلی چوری میں ملوث پائی گئے۔ گنڈا سنگھ کے علاقے میں وکیل غلام مصطفی ڈائریکٹ سپلائی سے بجلی چوری کرکے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا تھا، ملزم کوڈٹیکشن بل کی مد میں 19490 یونٹس چارج کیے گئے ہیں۔
ترجمان لیسکونے بیان میں کہا کہ گنڈا سنگھ کے ہی علاقے میں شاہ دین گاؤں میں ملزم ڈائریکٹ سپلائی سے بجلی چوری کررہا تھا جسے ڈٹیکشن بل کی مد میں 21760یونٹس چارج کیے گئے ہیں جس کی مالیت 544250 روپے ہے، محمد ظفر ایڈووکیٹ نامی ملزم کوڈٹیکشن بل کی مد میں 22360 یونٹس چارج کیے گئے جن کی مالیت559000روپے بنتی ہے۔
ترجمان لیسکوکے مطابق بلاول کالونی سب ڈویژن کے علاقے میں بشارت نامی ملزم ڈائریکٹ سپلائی سے بجلی چوری کرکے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کررہا تھا۔ جیسے ڈٹیکشن بل کی مد میں 48327یونٹس چارج کیے گئے ہیں جن کی مالیت 1014867روپے بنتی ہے، شارت ہی کو دوسری جگہ بجلی چوری کرنے پر ڈٹیکشن بل کی مد میں 43800یونٹس چارج کی گئی جن کی مالیت 919800روپے بنتی ہے۔
لیسکو کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پرویز اقبال نامی بجلی چور کو ڈٹیکشن بل کی مد میں 45625یونٹس جن کی مالیت958125روپے بنتی ہے، پرویز اقبال کو ہی ایک اور گھریلو کنکشن سے بجلی چوری کرنے پر ڈٹیکشن بل کی مد میں 43800یونٹس جن کی مالیت919800روپے بنتی ہے چارج کیے گئے، حجزہ شاہ مقیم میں انڈسٹریل میٹر کو ٹمپر کرکے بجلی چوری کرنیوالے ملزم طالب حسین کو ڈٹیکشن بل کی مد میں 16000ہزار یونٹس چارج کیے گئے جن کی مالیت650000روپے بنتی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















