Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہیں، نگران وزیراعظم

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گورننس کے تناظر میں کئی چیلنجز درپیش تھے، نگراں حکومت نے اقتدار میں آ کر ہول آف دی گورنمنٹ سوچ اختیار کی اور صوبوں سے مشاورت کی۔

انوارالحق نے کہا کہ سمگلنگ مافیا، منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی جاری ہے، احتساب بشمول نیب آئینی اداروں کا اختیار اور ذمہ داری ہے، ہم عوام سے احتساب کا مینڈیٹ لے کر نہیں آئے۔

نگران وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہمارا محدود کردار ہے، محدود وقت میں گورننس کی بدانتظامی کو روکنا ہماری ذمہ داری ہے، احتساب مروجہ اداروں کو کرنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے بجلی کے بقایاجات ہیں لیکن یہ نادہندہ نہیں ہو رہے ہیں، بجلی کے نادہندگان کے خلاف کارروائی جاری ہے، عدم ادائیگیوں اور بقایاجات کی وجہ سے گردشی قرضہ میں اضافہ ہوا ہے، اس سے بجلی کی ترسیل و تقسیم کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ عوام کو بجلی کے بلوں کے ریلیف کا اعلان کیا تھا، دو ماہ میں اضافہ 14 روپے فی یونٹ سے بجلی کے بلوں کا مسئلہ پیدا ہوا، ان بلوں میں جون اور جولائی کے ٹیکس اگست میں وصول کئے تھے، یہ نگران حکومت سے پہلے کے بل تھے، اس معاملہ پر مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ ماہ میں ڈالر کی قیمتوں میں کمی اور دیگر عوامل کے باعث صورتحال میں بہتری آئے گی، اس معاملہ پر کسی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا کر نکتہ چینی کرنا ہمارا اختیار نہیں۔

نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں کی کارکردگی عوام کے سامنے عیاں ہے، ہم اپنے دور حکومت میں قانونی تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں، کوشش کریں گے کہ آئندہ مہینوں میں بجلی کے بل ناقابل برداشت نہ ہوں۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ نگران حکومت میں کسی سیاسی نمائندے کی موجودگی کا تاثر درست نہیں، فواد حسن فواد اور دیگر سول سرونٹ ہیں، یہ باصلاحیت لوگ ہیں جو نگران حکومت کا حصہ ہیں ، ان کی کارکردگی کو دیکھنا چاہئے، ان میں سے کوئی کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہیں یہ میرا ذاتی انتخاب ہیں۔ن لیگ کی جانب سے کسی کا نام نگران کابینہ کیلئے نہیں دیا گیا۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی لوگوں کی ایک دوسرے سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، بلوچستان کو سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، وہاں کی قیادت سے بلوچستان کے مسائل پر بات ہونی ہے۔

نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امید اور یقین ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے فرائض آئین و قانون کے مطابق سرانجام دے گا، انتخابات کا معاملہ قانون کے مطابق حل کیا جائے گا جبکہ ہم انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنی معاونت کی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر قانون اپنی راہ اپنائے گا، وہ تین بار ملک کے وزیراعظم رہے ہیں، ان سے وہی رویہ اختیار کیا جائے گا جو ان کا حق ہے۔

انوار الحق نے کہا کہ سینیٹ کی نشست اور پارٹی عہدہ سے استعفی دیا ہے، نیشنل گرینڈ ڈائیلاگ کی کوئی تجویز ابھی زیر غور نہیں، اس حوالے سے سیاسی جماعتوں، میڈیا، دانشوروں اور وکلاء کو آگے آنا چاہئے، ہم میں قومی احساس پیدا ہونا چاہئے، میرٹ کی بنیاد پر اس حوالے سے گفتگو کرنی چاہئے۔

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ  نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے قانون سازی ہو چکی ہے، سیاسی حکومتیں اس حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار تھیں تاہم نگران حکومت اس حوالے سے موثر فیصلہ سازی کرے گی۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں