چیف جسٹس بننے کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ میں اہم تقرریوں کے احکامات دے دیئے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جزیلہ اسلم کو رجسٹرار سپریم کورٹ ، ڈاکٹر محمد مشتاق کو سیکریٹری ٹو چیف جسٹس پاکستان جبکہ عبدالصادق کو اسٹاف آفسر برائے چیف جسٹس تعینات کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی منظوری کے بعد اہم تقرریوں کے حوالے سے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
جزیلہ اسلم
جزیلہ اسلم سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار تعینات ہوئی، جزیلہ اسلم سیشن جج کے طور پر پنجاب میں تعینات تھیں، جزیلہ اسلم کو اعلیٰ تعلیم اور بہترین عدالتی کیریر کی وجہ سے سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق
سیکرٹری برائے چیف جسٹس ڈاکٹر محمد مشتاق کا تعلق مردان خیبر پختونخواہ سے ہے، ڈاکٹر محمد مشتاق انتہائی پڑھے لکھے اور گیارہ کتابوں کے مصنف ہیں، ڈاکٹر مشتاق مختلف مقدمات میں سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کی معاونت بھی کر چکے ہیں۔
سپریم کورٹ میں تعیناتی سے قبل ڈاکٹر محمد مشتاق شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں شعبہ شرعی و قانون کے سربراہ تھے۔
عبد الصادق
اسٹاف افسر برائے چیف جسٹس عبدالصادق کا تعلق بلوچستان سے ہے، عبدالصادق بی اے کے علاوہ متعدد زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، عبدالصادق کو ڈیپوٹیشن پر بلوچستان ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تعینات کیا گیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھالیا
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 29 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی حلف برداری کی تقریب ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس فائز عیسیٰ سے حلف لیا۔
حلف برداری کی تقریب میں جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔
اس کے علاوہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، وفاقی وزراء، آرمی چیف، ججز، سابق چیف جسٹسز، گورنرز اور قانونی برادری سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی گزشتہ روز ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج پاکستان کے 29ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟
تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما قاضی فائز عیسٰی کے فرزند اور ریاست قلات کے وزیراعظم قاضی جلال الدین کے پوتے جسٹس فائز عیسی 26 اکتوبر 1959 کو کوئیٹہ میں پیدا ہوئے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 5 اگست 2009 کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور 2014 کو سپریم کورٹ میں بطور جج عہدے کا حلف اٹھایا۔
انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج کئی ہم فیصلے دئیےجن میں فوجی عدالتوں کیخلاف فیصلہ، حدیبیہ پیپرز مل، فیض آباد دھرنا، کے علاوہ خواتین کے وراثتی حقوق؟ سرکاری املاک کے تحفظ سے متعلق اہم فیصلے شامل ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان کے بنچ تشکیل دینے مقدمات کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کے طریقہ کار کے خلاف بھی فیصلے دیے۔
نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو تحریک انصاف کے دور میں سپریم جوڈیشل کونسل میں عہدے کے ریفرنس کا سامنا بھی کرناپڑا جو کالعدم قرارپایا۔
جسٹس فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سمبھالنے کے بعد کئی چیلجز کا سامنا ہوگا جن میں ججز باہمی اختلافات، آرٹیکل 184/3 کے اختیار کے استعمال کا طریق، بینچ کی تشکیل اور عدلیہ کے وفاق کو بحال شامل ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















