نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نےکہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور تنازعات کے متعدد بحرانوں نے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نیویارک میں ایس ڈی جیز سربراہان میں فنانس اور سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور ایس ڈی جیز کے حصول کے لئے نفاذ کے ڈائیلاگ 6 میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 18 سے 19 ستمبرتک ہونے والی ایس ڈی جیز سربراہی کانفرنس 2030 کے ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کاوشوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایجنڈا 2030 کو اپنانے کے 8 سال بعد ایس ڈی جی اہداف کے حصول پر صرف 12 فیصد پیش رفت ہوسکی ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے یہ بھی کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ترقیاتی اہداف کے حصول میں وسائل کی کمی کاسامنا ہے، پائیدار ترقی کے لئے یکساں ترقی ضروری ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور تنازعات کے متعدد بحرانوں نے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔
نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی ناہمواری پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، پائیدار ترقی کے اہداف کےحصول کے لئے ترقی پذیر ممالک کو وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔
انوار الحق کاکڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ غربت اور غذائی تحفظ میں ان تنازعات کے سبب اضافہ ہوا ہے جبکہ اس میں اخلاقی طور پر دیوالیہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کی وجہ سے مزید اضافہ ہوا ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے کوپ ۔28 میں پاکستان موسمیاتی انصاف کا متمنی ہے جس میں موسمیاتی فنانس میں سالانہ 100 ارب ڈالر سے زائد کی فراہمی کے وعدے کی تکمیل اس کا نصف حصہ موسمیاتی موافقت کے لئے مختص کرنے اور نقصانات کے لئے فنڈ کا فوری آغاز شامل ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















