Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، نگراں وزیراعظم

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس کے موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، گذشتہ سال پاکستان میں تباہ کن سیلاب آیا، گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان کو قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ ریزیلیئنس کیلئے نیشنل ایڈاپٹیشن منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا ہے، اس منصوبے کے تحت مستقبل میں سیلاب اور قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے نشاندہی کردہ منصوبوں میں تمام وسائل بھرپور انداز میں بروئے کار لائے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں سرمایہ کاری کی فراہمی کا فریم ورک وضع کیا جائے گا جس سے مخصوص نشاندہی شدہ شعبوں میں ضروریات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ 2025ء انیشیٹو کے تحت دریائے سندھ کے حوالے سے منصوبے کا آغاز کیا ہے،نیشنل ایڈاپٹیشن منصوبے کے تحت ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان کی ارلی وارننگ صلاحیت میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے ہیں، عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے تاہم سب سے ز یادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہے، عالمی حدت روکنے کیلئے عالمی کوششوں کا حصہ ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان 2030ء تک اپنی توانائی کی 60 فیصد ضرورت متبادل توانائی کے ذرائع سے حاصل کرے گا، اس پر 100 ارب ڈالر کی لاگت ہے جس پر ہمیں عالمی مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری کو فروغ دینے کی حمایت کرتا ہے۔

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ قدرتی وسائل کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانا چاہیے، مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے بارے میں قابل عمل سوچ اختیار کرنی چاہئے، موسمیاتی اہداف کے حصول کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو مالیاتی اور تکنیکی تعاون کے ذریعے موسمیاتی انصاف ملنا چاہیے۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں