ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے مضبوط سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں ان کی ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات ہوئی ہے۔
ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق معزز مہمان نے تربیتی شعبے، نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ہوا بازی کی صنعت میں باہمی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ شراکت داری کو مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔
ملاقات کے دوران سربراہ پاک فضائیہ نے اپنے حقیقت پر مبنی پالیسی فیصلوں کا ذکر کیا جبکہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دفاعی تعاون اور بین الاقوامی تزویراتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاک فضائیہ کو جدید ٹیکنالوجیز کے حصول، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور آپریشنل و ٹریننگ ڈومینز کی ازسر نو تشکیل کے ذریعے جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
ظہیر احمد بابر سدھو نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب مسلم دنیا کا مرکز اور ایک بہترین تزویراتی شراکت دار ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روابط استوار ہیں۔
سربراہ پاک فضائیہ نے دونوں ممالک کی افواج کے مابین تعاون اور تربیتی شعبے میں پہلے سے موجود تعلقات کو فروغ دینے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے مضبوط سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے مزید کہا کہ پاک سعودی تعلقات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام سے متعلق تمام اہم امور میں ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔
ملاقات میں سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے پاک فضائیہ کی جانب سے خود انحصاری کے میدان میں کی گئی غیر معمولی پیش رفت کی تعریف کی جبکہ سعودی چیف آف جنرل اسٹاف نے پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی پیشہ وارانہ مہارت کو بھی سراہا۔
علاوہ ازیں سعودی وفد نے پاک فضائیہ کے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئرآپریشن سینٹر، سائبر کمانڈ اور نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک سمیت دیگر تنصیبات کا بھی دورہ کیا جہاں وفد کو پاک فضائیہ نے آپریشنل صلاحیتوں اور جدت سے ہم کنار کرنے کے لئے جاری مختلف منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
دورے کے دوران معزز مہمان نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
ظہیر احمد بابرسدھو نے کہا کہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبے کا مقصد ایوی ایشن، اسپیس، آئی ٹی، سائبر اور کمپیوٹنگ کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، ترقی اور اختراع کو فروغ دینا ہے۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھونے مزید کہا کہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبہ پاکستان اور اسکے شراکت داروں کے لیے سماجی، اقتصادی، تکنیکی اور سائنسی فوائد کا حصول یقینی بنائےگا۔
ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے ریکارڈ مدت میں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبے کی کامیاب تکمیل پر ائیر چیف کے غیر متزلزل عزم کو بھی سراہا۔
سعودی چیف آف جنرل سٹاف نے کہا کہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبہ ایرو اسپیس اور ہوابازی کے شعبے سے متعلق صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے نئی اختراعات کی ایک درسگاہ ثابت ہوگا۔



















