سپریم کورٹ آف پاکستان نے محکمانہ انکوائری کے خلاف اسکول ٹیچر کی درخواست مسترد کردی۔
رحیم یار خان کے اسکول ٹیچر کو خواتین کو ہراساں کرنے اور موبائل چھیننے کے الزامات پر ریٹائرڈ کیا گیا، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فئز عیسٰی نے کہا کہ انکوائری کے بعد آپ کو بحال کردیا گیا تو ملازمت پر کیوں نہیں گئے؟
اسکول ٹیچر نے مؤقف پیش کیاا کہ میں گیا تھا لیکن ری جوائننگ نہیں کرائی گئی، کہا گیا کہ آپ کو پنشن مل رہی ہے اس لیے دوبارہ جوائننگ نہیں ہوسکتی۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے ؟ آپ نے متعلقہ فورم پر درخواست کی پیروی کیوں نہیں کی؟ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی درخواست مسترد کردیں؟ ایسا تو نہیں کہ آپ متعلقہ فورم پر جانا ہی نہیں چاہتے۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ پرتو انتہائی سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں آپ کو بحال کیسے کیا گیا، شکر کریں کہ انکوائری کا فیصلہ آپ کے حق میں ہے۔
اسکول ٹیچر نے جواب دیا کہ میری دوبارہ جوائننگ کے حوالے سے آرڈر فرما دیں اور کوئی گزارش نہیں۔
عدالت نے محکمانہ انکوائری کے فیصلے کیخلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے ضابطے کے تحت معاملہ نمٹانے کا حکم دے دیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
