نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نگران حکومت کے حالیہ انتظامی اقدامات نے پاکستانی روپے کو امریکی ڈالر کے مقابلہ میں مضبوط کیا۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم سے لندن کی کیپٹل و فنانشل مارکیٹ کے سینئر رہنمائوں نے پاکستان ہاؤس لندن میں ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے وفد کو پاکستان کے موجودہ معاشی منظرنامہ سے آگاہ کرتے ہوئے بیرونی کھاتوں کی بہتری کیلئے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
انوار الحق نے کہا کہ حالیہ انتظامی اقدامات نے پاکستانی روپے کو امریکی ڈالر کے مقابلہ میں مضبوط کیا، استحکام کیلئے امید کو فروغ دیا۔ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوست ممالک کی جانب سے رقوم کی آمد سمیت مثبت اشاریوں نے مہنگائی میں کمی، مستحکم ذخائر اور صنعتی ترقی کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
نگران وزیراعظم نے پاکستان کے اہم شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات اور آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے مثبت اثرات، معیشت اور کرنسی کے استحکام پر روشنی ڈالی۔
انوار الحق نے کہا کہ درآمدات پر پابندیوں کے خاتمے، زرعی مدد اور درمیانی مدت کے افراط زر کے اہداف کیلئے مالیاتی اقدامات کے بعد تجارت میں بہتری آئی ہے جبکہ زراعت اور صنعت میں بہتری آئی ہے، مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس کونسل سے سرمایہ کاری کے عمل کیلئے راہیں ہموار ہو رہی ہیں، اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کاروباری منظرنامہ کو آسان بنا کر طویل مدتی ترقی کو فروغ دینے پر کاربند ہیں۔
برطانوی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل اور قلیل و وسط مدتی اصلاحاتی کوششوں کے بارے میں معلومات لیں جس پر نگران وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں کی گئی اصلاحات کرکے آئی ایم ایف پروگرام سے وابستگی کا اظہار کیا ہے۔
سرمایہ کاروں نے پاکستان کی مالیاتی اور کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے امید افزاء مواقع تلاش کرنے میں اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا جو اقتصادی تعاون کو وسعت دینے میں بڑھتی ہوئی باہمی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
ملاقات کرنے والوں میں نمایاں سرمایہ کاری کرنے والی فرموں میں فیلڈیلٹی انٹرنیشنل لمیٹڈ (ایف آئی ایل)، ولنگٹن مینجمنٹ، اشمور، جیفریز انٹرنیشنل، ریڈ ویل کیپٹل، سویٹیکس انڈسٹریل ایس اے، آکسفورڈ فرنٹیئر کیپٹل، گارنٹکو، جے پی مورگن، کالراک کیپٹل اور یو بی ایل (یوکے) کے نمائندے شامل تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















