نگران وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے کہا ہے کہ تیل اور گیس کی ضروریات کو موثر انداز میں پورا کرنے کے لئے حکومت حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی آن شور اور آف شور تلاش کے لئے دسمبر میں بولیوں کا اعلان کر چکے ہیں، اس سال اے ڈی آئی پی ای سی میں پاکستان کی موثر موجودگی ہے جس میں ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ اور متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والی تقریبا 10 کمپنیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تیل اور گیس کی تلاش کی سرگرمیوں کو تیز کرکے مستقبل کی تیل اور گیس کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے لئے حکومت حکمت عملی تیار کر رہی ہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
محمد علی نے ڈی کاربنائزیشن اور الیکٹرائزیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مستقبل کے لئے پاکستان کی توانائی کی حکمت عملی کے اہم اجزاء ہیں، اگرچہ ماضی میں ان پہلوؤں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی تھی لیکن اب ان پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات میں توانائی کے تحفظ، بجلی کی فراہمی کی کوششیں اور بجلی کی پیداوار کے لیے قدرتی گیس کی دوبارہ فراہمی شامل ہے تاکہ آلات اور گاڑیوں کو بجلی فراہم کی جا سکے۔
محمد علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے، توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور جیواشم ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لئے کام کر رہا ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ میں شراکت داروں کی تلاش میں ہے تاکہ اسے ڈیکاربرائزیشن کے اہداف کے حصول میں مدد مل سکے۔
نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کے شعبے میں بہت جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین موجود ہیں جس سے پاکستان ان کی مہارت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















