Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نواز شریف کی واپسی کسی گارنٹی کا نتیجہ نہیں، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی واپسی کسی گارنٹی کا نتیجہ نہیں، نوازشریف 21 اکتوبرکو وطن واپس آرہے ہیں۔

سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واپسی کے سفر کیلئے کسی گارنٹی یا یقین دہانی کی ضرورت نہیں، نواز شریف کی واپسی پرضمانت کا عمل بھی ہو جائے گا، آج تک اس ملک میں کس کو حفاظتی ضمانت نہیں ملی۔

اسحاق ڈارنے کہا کہ میں نے حفاظتی ضمانت لینے سے انکار کیا تھا، ڈالرکی حقیقی ویلیو 250 روپے ہے، ستمبر 2022 میں کہا تھا کہ ڈالر ریٹ 200 سے کم ہونا چاہئے، ڈالرکو 250 روپے کے قریب آنا چاہئے، کوئی وجہ نہیں کہ ڈالر کی قیمت واپس اوپر جائے۔

سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ خوش آئند ہے کہ انٹر بینک سسٹم اور ایکسچینج کمپنیاں ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، معیشت کے حوالے سے سوال موجودہ حکومت سے کیا جائے، ہمارے دورمیں بھی ڈالر کی اسمگلنگ اور زخیرہ اندوزی کیخلاف ایکشن لیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ تاہم نتائج آنے میں وقت لگتا ہے، امید ہے آئی ایم ایف کا اگلا اقتصادی جائزہ کامیاب ہوگا، اس کے نتیجے میں پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی، تمام قوتیں مل کر کام کر رہی ہیں، کوئی قوت مجھے ناکام نہیں کرنا چاہتی تھی، سب قوتیں مل کر کام کریں گی تو ملک آگے بڑھے گا۔

اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان کو دوبارہ معاشی قوت بنا کر جی ٹوئنٹی میں شامل کرنا ہے، مہنگائی کے خاتمے اورعوامی مسائل حل کرنے کیلئے ہمت کی ضرورت ہے،

اس موقع پرصحافی نے سوال کیا کہ کیا شاہد خاقان عباسی کے پارٹی قیادت سے اختلافات دور ہو گئے ہیں، جس پرانھوں نے جواب دیا کہ شاہد خاقان عباسی آپ کے زیادہ دوست ہیں ان سے پوچھیں۔

سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ میں سازشی تھیوری پر یقین نہیں رکھتا، انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا کام ہے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن کے جنوری کے آخرمیں الیکشن کرانے کے اعلان پر یقین کیا جائے۔

انھوں نے مذید کہا کہ کورمہنگائی دیہات میں 18 اور شہری علاقوں میں 19 فیصد ہے، نگران حکومت کے پاس نجکاری سے متعلق اختیار موجود ہے، پی ڈی ایم حکومت نے قانون سازی کے ذریعے نگران حکومت کو اختیارات دیے تھے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں