نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے فلسطین کے صدر محمود عباس کو فون کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا فلسطین کے صدر محمود عباس سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں فلسطین کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی بربریت پر گفتگو ہوئی۔
نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی اسپتال پر بمباری کی شدید مذمت کرتا ہے، اسرائیلی بمباری سے3 ہزار افراد شہید ،12 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر اسرائیل کے اس قتل عام کو روکنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
نگراں وزیراعظم نے فوری طور اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اسرائیلی بربریت کے متاثرین تک طبی و دیگر امداد پہنچ سکے، پاکستان نے بھی اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کیلئے امداد کی پہلی کھیپ روانہ کی جو گزشتہ روز مصر پہنچ چکی ہے۔
انوارالحق نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو فوری طور پر ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرکے اس صورتحال کو ٹھیک کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے تاکہ انصاف، انسانیت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
نگراں وزیراعظم انوارالحق نے فلسطین کے تنازعے کے منصافانہ اور پائیدار حل کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب “دو ریاستی” حل جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور مشرقی القدس شریف کے ساتھ پائیدار اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
صدر محمود عباس نے پاکستان کی فلسطینی عوام کے ساتھ ان کی اسرائیلی قبضے سے آزادی میں دیرینہ اور موثر حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
فلسطین اسرائیل جنگ، شہید فلسطینیوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرگئی
غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 1500 سے زائد بچوں سمیت 4 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے جس میں 1524 بچوں سمیت 4137 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 13 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے کے رہائشی علاقوں اور مذہبی مقامات پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
اسرائیلی بمباری میں اسپتالوں اور ایک چرچ کے بعد اب ایک تاریخی مسجد العمری الکبیر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں مسجد شہید ہوگئی۔
منگل کی شب غزہ کے ایک اسپتال پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں 500 سے زائد فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی طیاروں نے اسپتال کو نشانہ بنایا تھاجس میں طبی عملہ، مریض اور پناہ لیے ہوئے عام شہری شہید ہوئے تھے۔
فلسطینی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ غزہ اسپتال پر حملے میں شہادتوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔
ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اسپتال کے بعد مرکزی غزہ کے مہاجر کیمپ نصیرت میں ایک مسجد پر فضائی کارروائی کی جہاں پناہ لیے ہوئے کئی بے گھر فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے 250 نہتے فلسطینیوں کو دھوکے سے قتل کرنے کے مناظر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے 11 لاکھ لوگوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا جھوٹا اعلان کرکے نقل مکانی کرنے کا کہا اور پھر ان ہی پربمباری کردی تھی۔
دیر البلاح میں گھر پر بمباری میں بھی درجن کے قریب فلسطینی شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ کئی افراد ملبے تلے دبے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے مغربی علاقے میں واقع ہلال احمر کے ہیڈ کوارٹر اور القدس اسپتال کے قریبی علاقے پر بھی 30 منٹ تک رہائشی عمارتوں اور سڑکوں پر بمباری کی گئی۔
بموں کے ٹکڑے ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر میں بھی گرے جہاں عملے کے علاوہ 8 ہزار افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















