مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی 12 ویں برسی آج ملک بھر میں منائی جائے گی۔
بیگم نصرت بھٹو کی برسی پر کارکنان کی جانب سے بیگم نصرت بھٹو کی تاریخی قربانیوں اور سیاسی جدوجہد پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈویژنل، ڈسٹرکٹ، تحصیل، سٹی اور ذیلی تنظیموں کے زیر اہتمام خراج عقیدت پیش کرنے کیلیے ملک بھی میں تقاریب منعقد کی جائیں گی۔
بیگم نصرت بھٹو کی ملک و قوم، پارٹی اور جمہوریت کیلئے قربانیوں کے حوالے سے تقاریب اور سیمینارز ہوں گے۔
یاد رہے کہ نصرت بھٹو نے ایک بلند حوصلہ، عزم و ہمت کی ایک داستان تھی، بیگم نصرت بھٹو کو پاکستان میں جمہوریت کیلئے کسی بھی آمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی پہلی خاتون رہنما ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
نصرت بھٹو نے اپنے دور کی بدترین آمریت کے خلاف پرامن سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا ، نصرت بھٹو نے ہر دکھ سکھ میں ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا، بھٹو کی شہادت کے بعد نامساعد حالات میں پارٹی کی قیادت کی اور بھٹو کے مشن کو آگے بڑھایا۔
بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی میں جمہوریت کی خاطر اپنے شوہر اور تین بچوں کی قربانیاں دی۔ان کے شوہر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اکیاون سال کی عمر میں پھانسی ہوئی، ان کے جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی ستائیس برس کی عمر میں فرانس میں مشکوک حالات میں موت واقع ہوئی جب کہ ان کے بڑے صاحبزادے مرتضی بھٹو کی کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی۔
بیگم نصرت بھٹو کی بڑی صاحبزادی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں سنہ دو ہزار سات کو دہشت گردی کے حملے میں چون برس کی عمر میں قتل کیا گیا۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی بیوہ‘ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی والدہ‘ صدرآصف علی زرداری کی خوشدامن‘ سابق خاتون اول بیگم نصرت بھٹو کا دبئی میں 23 اکتوبر 2011 کو 82 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
بلاول بھٹو کا نصرت بھٹو کی 12ویں برسی پر خراج عقیدت
چیئرمین پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے نصرت بھٹو کی 12ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں چیئرمین پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماد ر جمہوریت ایک بصیرت انگیز خاتون رہنما تھیں جنہوں نے ایک آمر کے خلاف سیاسی بحالی اور پاکستانی عوام کے جمہوری حقوق کے لیے تاریخی تحریک چلائی۔
انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جب تک صحت نے انہیں اجازت دی، بیگم نصرت بھٹو عوامی حقوق کے لیے لڑتی رہیں اور ایک دن بھی خاموش نہیں بیٹھیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ مادرِجمہوریت بیگم نصرت بھٹو ہمدردی، صبر اور حوصلے کا استعارہ تھیں جنہوں نے پاکستان کی جمہوریت اور عوام کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مادر جمہوریت کی اقدار اور جدوجہد ہمارے لیے مینارنور ہے، وہ ہمارے دلوں اور تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آج بیگم نصرت بھٹو کی برسی کے موقع پر ہمیں ایک بار پھر عہد کرنا ہوگا کہ ہم عوام کے حقوق کے لیے اسی حوصلے، عزم اور آزادی کے ساتھ لڑتے رہیں گے جس حوصلے کے لیے مادر جمہوریت نے جدوجہد کی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















