نگراں وزیراعظم انوار الحق نےکہا ہے کہ پولیو سمیت معاشرے سے تمام منفی رویوں کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے انسداد پولیو کے عالمی دن پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو ایک قومی مقصد ہے جس کیلئے ہم سب متحد ہیں۔
انوار الحق نے کہا کہ پولیو ویکسین پلانے کیلئے ہمیں ہر بچے تک پہنچنا ہے، پولیو سمیت معاشرے سے تمام منفی رویوں کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر انسداد پولیو اور زچہ و بچہ کے علاج کیلئے مؤثر اقدامات کئے جارہے ہیں، کئی پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں نے فرائض کی انجام دہی میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمہ میں بل اینڈ ملینڈا گیٹس کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، انسداد پولیو کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیو ویکسین کی بدولت دنیا بھر میں 2 کروڑ سے زائد افراد کو موذی مرض سے نجات ملی، اگر یہ ویکسین تیار نہ کی جاتی تو آج دنیا میں صورتحال مختلف ہوتا۔
انوار الحق نے کہا کہ پاکستان میں 1988ء میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوا،1988 میں دنیا کے 125 ممالک میں پولیو کا وائرس موجود تھا اور ساڑھے تین لاکھ سے زائد بچے پولیو سے معذور ہو چکے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج 99 فیصد دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے، پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں جبکہ پاکستان میں 2022ء میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 22 تھی جو اب کم ہو کر صرف 4 رہ گئی ہے۔
نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پولیو پروگرام انتہائی مؤثر ہے اور اس پروگرام کی بدولت ملک میں بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچانے میں کامیابی ہوئی ہے اور اس مقصد کیلئے پولیو ہیلتھ ورکرز، سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات اور قربانیاں قابل تحسین ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2011ء کے بعد سے ہمارے بہت سے پولیو ورکرز نے ملک سے پولیو کے خاتمہ کی کاوشوں کے دوران قربانیاں دیں، ہم پولیو ورکرز کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے بچے بھی صحت مند زندگی کے حقدار ہیں، پولیو کے خاتمہ کیلئے ہر بچے تک ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















