Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

8 فروری 2024 کوعام انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری

الیکشن کمیشن نے8 فروری 2024 کوعام انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، عام انتخابات کا اعلان الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 کے تحت کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے 90 دن میں انتخابات کیلئے دائر درخواستیں نمٹا دیں جس کے بعد الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے صدرمملکت سے مشاورت کے بعد متفقہ طورپرآٹھ فروری دوہزارچوبیس کو عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔

قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آٹھ فروری کوکرائے جائیں گے جس کا الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ طور پرنوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے سیشکن 57 کے تحت آئندہ عام انتخابات کرانے کا نوٹفکیشن جاری کیا ہے۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک بیان دیا گیا اوراس سے قبل الیکشن کمیشن باضابطہ طور پر یہ اعلان کرچکا تھا کہ جو حتمی حلقہ بندیاں ہیں وہ تیس نومبرتک مکمل ہو جائیں گے۔ اب الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات انھیں بہت زیادہ موصول ہوئے ہیں، تقریبا 13 سو سے زاید اعتراضات موصول ہوئے اوران اعتراضات کو نمٹانے کے لیے انھیں مذید وقت درکار ہے جس کے لیے 30 نومبرکی تاریخ کو مذید بڑھایا جائے گا۔

اس حوالےسے الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پہلے تیس نومبرتک حلقہ بندیاں مکمل کرنی تھی اب 8 سے نو دسمبرتک یہ عمل مکمل ہوگاجس کے بعد الیکشن کمیشن کو 54 دن انتخابات کی تیاریوں کے لیے چاہییے ہوں گے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن یہ اعلان کر چکا تھا کی جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کرائے جائیں گے جبکہ سپریم کورٹ میں 11 فروری کی تاریخ سامنے آئی تاہم صدرسے مشاورت کے بعد 8 فروری کی تاریخ پراتفاق ہوا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ابتک چھ سو سے زاید اعتراضات پر سماعتیں کرکے فیصلہ محفوظ کرچکا ہے۔ خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن میں اعتراضات کی درخواستوں پردرخواست گزارفیصلوں سےمطمئن نہ ہوئے توہائیکورٹ بھی جا سکتے ہیں۔

ادھرسپریم کورٹ نے نوے روز میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت کے حکم نامے میں کہا کہ صدرسے اتفاق کے بعد انتخابات کی تاریخ کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا، نوٹیفکیشن کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 8 فروری کو ہونگے، ایڈووکیٹ جنرلزکے مطابق کسی صوبائی حکومت کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں، وفاقی و صوبائی حکومتیں یقین بنائیں کہ انتخابات کا عمل 8 فروری کو بغیر کسی رکاوٹ مکمل ہو، حکم نامہ میں تمام اداروں کو پابند کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے صدرِمملکت کے خط کا جواب نہیں دیا، الیکشن کمیشن اور صدرسمیت ہر ادارہ آئین پرعمل درآمد کرنے کا پابند ہے، آئین پر عمل نہ کرنے کے سخت نتائج ہوتے ہیں۔ انتخابات کا معاملہ صدر اور الیکشن کمیشن کے درمیان حل ہونا تھا جو غیر ضروری طور پر سپریم کورٹ لایا گیا، اگر صدرِ مملکت کو مشورہ درکار تھا تو وہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ آسکتے تھے، متعدد درخواستیں دائرہوچکی ہوئیں۔

سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق کیس کا حکم نامہ

یہ خبر بھی پڑھیں؛ صدرِمملکت کی طرف سےانتخابات کی تاریخ کی دستخط شدہ کاپی سپریم کورٹ میں پیش

اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔

متعلقہ خبریں