Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کوئٹہ ؛ کانگو کا ایک اور مشتبہ مریض انتقال کرگیا

 فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ میں زیر علاج کانگو وائرس کا ایک اور مریض انتقال کرگیا۔

اسپتال حکام کے مطابق آج ایک بچی سمیت تین مشتبہ مریضوں کو ہسپتال لایا گیا جبکہ کانگو وائرس کی تشخیص کے لیے نمونے لیبارٹری بھیجے ہیں اب تک نتیجہ نہیں آیا۔

 کانگو وائرس کیا ہے؟

یہ وائرس مویشی گائے، بیل، بکری، بکرا، بھینس اور اونٹ، دنبوں اور بھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔

 قومی ادارۂ صحت کے مطابق نیرو نامی وائرس انسانی خون اور تھوک میں پایا جاتا ہے جو انسانوں میں گانگو بخار پھیلاتا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتے کے اندر زندگی کی بازی ہار سکتا ہے۔

کانگو کی علامات

متاثرہ شخص کو تیز بخار، کمر، پٹھوں، گردن میں درد، قے، متلی، گلے کی سوزش اور جسم پر سرخ دھبے کانگو کی علامات ہیں۔

واضح رہے کہ کانگو وائرس گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان میں موجود ہے، یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ کانگو وائرس کے خاتمے کے لیے تا حال کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے لہٰذا قبل از وقت احتیاط اور مرض ظاہر ہو جانے کی صورت میں فوری اور بر وقت علاج ضروری ہے۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں