Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دہشت گرد دینِ اسلام سے خارج قرار، علمائے کرام کی متفقہ رائے

اسلام آباد: دہشت گردوں نے ایک بار پھر اسلام کے نام پر پاکستان پر وار کرنا شروع کردیا لیکن عالم دین نے اسلام کو ہتھیار بنانے والوں کو بدترین گناہ گار قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی اسلامی اقدار کو فروغ دینے اور دہشت گردی کی روک تھام کے پیش نظر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ملک میں پیغام پاکستان کی روشنی میں اتحاد، رواداری اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ضابطہ اخلاق پیش کر دیے گئے، “پیغامِ پاکستان” قرآن پاک کے احکامات، سنت رسولؐ اور پاکستان کے آئین کے مطابق متفقہ دستاویز ہے جو کہ 16 جنوری 2018 کو منظور ہوا، تاہم یہ دستاویز پاکستان کے ریاستی اداروں، یونیورسٹیز اور درج ذیل مکاتب فکر کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔

پیغام پاکستان پر 1800 عالم دین نے دستخط کیے جبکہ علمائے کرام کی جانب سے مندرجہ ذیل فتوے بھی جاری کیے گئے۔

فتوے میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بنیادی حقوق یعنی سماجی و اقتصادی انصاف، قانون کی نظر میں مساوی، سیاسی انصاف، آزادی اظہار، عقیدہ، عبادت اور اجتماع کی ضمانت دیتا ہے، حکومت، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو غیر مسلم قرار دینا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا اسلام کی تعلیمات کے منافی، بغاوت کے مترادف، اور اسلامی احکام و شریعت کے مطابق ’’حرام‘‘ ہے۔

کہا گیا کہ تمام علمائے کرام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور پوری قوم افواج پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کا اعلان کرتی ہے، علمائے کرام نے خود کش بمباری کو شریعت کی روشنی میں “حرام” قرار دیا اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کریں۔

علمائے کرام نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں کا مشن طلباء کی تعلیم و تربیت ہے اور اگر کوئی ادارہ عسکریت پسندی، نفرت، انتہا پسندی اور تشدد میں ملوث پایا گیا تو ریاست کو کارروائی کرنی چاہیے،  ہر مسالک اور مکتبہ فکر کو تبلیغ کی آزادی حاصل ہے تاہم کسی فرد، مسالک یا ادارے کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی ممانعت ہے، کوئی عالم دین کسی شخص کو غیر مومن قرار نہیں دے گا کیونکہ یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کے فروغ، تربیتی سرگرمیوں اور دنیا کے دیگر ممالک میں کسی مذموم کارروائی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی، انسانی اقدار اور اسلامی اخوت پر مبنی اسلامی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، اقلیتی برادریوں کو بھی مسلمانوں کی طرح حقوق حاصل ہیں اور انہیں اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق عبادت کی آزادی حاصل ہے۔

تمام علمائے کرام نے لاؤڈ اسپیکر، ٹی وی چینلز وغیرہ کے استعمال کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی اور قانونی طور پر ان کی ممانعت پر زور دیا اور متفقہ فیصلہ کیا کہ دہشت گرد دین اسلام سے خارج ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں