Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیئرمین تحریکِ انصاف کی دواپیلوں پرسماعت 14 نومبرتک ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریکِ انصاف کی دواپیلوں پرسماعت 14 نومبرتک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفرکیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پراورانسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے کے خلاف بھی اپیل پرسماعت ہوئی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیازنے سماعت کی جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور اٹارنی جنرل منصوراعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس حسن اورنگزیب نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے مؤکل سے ہدایات لےکرعدالت کو آگاہ کر دیں، اگرآپکو اس عدالت پر اعتماد نہیں تو بھی ہمیں بتا دیں جس پروکیل نے جواب دیا کہ ہمیں اس عدالت پر مکمل اعتماد ہے۔

 جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک معروف اخبارمیں اس کیس سے متعلق غلط خبرشائع کی گئی، ہائیکورٹ نے اُس غلط خبر پر وضاحتی پریس ریلیز جاری کی، اخبار نے تردید شائع کی لیکن وہ اتنی واضح نہیں تھی جتنی کہ غلط خبر۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزارت قانون نے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا این او سی جاری کیا، ہائیکورٹ نے جیل سماعت کے خلاف درخواست پر 12 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا، محفوظ فیصلہ 16 اکتوبر کو سنایا گیا اس دوران وزارت قانون نے مزید دو نوٹیفکیشنز جاری کر دیے، ہم وہ دونوں نوٹیفکیشنز بھی عدالتی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، وزارت قانون نے لکھا کہ انہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل پر کوئی اعتراض نہیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وزارت قانون نے تو جیل ٹرائل کا این او سی جاری کیا، ٹرائل جیل میں چلانے سے متعلق اجازت دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟

وکیل نے جواب دیا کہ وزارت قانون نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جیل ٹرائل کیلئے خط لکھا، چیئرمین پی ٹی آئی کو اس دوران اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا،  خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی کے بچوں کی جیل سماعت میں موجودگی کی درخواست خارج کر دی، 2 اکتوبر کو سائفر کیس کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا، اگلے روز ایک دستاویز سامنے آیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی کیلئے جیل ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ بعد میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے میں کیا لکھا گیا؟ وکیل نے جواب دیا کہ سنگل بنچ کے فیصلے میں بعد میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشنزسے متعلق کچھ نہیں لکھا گیا، وزارت قانون کے بعد کا نوٹی فیکیشنزبھی پہلے نوٹیفکیشن کا تسلسل ہے، پہلے جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز صرف چیئرمین پی ٹی آئی سے متعلق تھے، بعد کے نوٹیفیکیشنز میں شاہ محمود قریشی کو بھی شامل کیا گیا۔

جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں نے گزشتہ سماعت پر بھی کہا تھا کہ اب وقت مختلف ہے، اس کیس میں کتنے گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ آج تین گواہ پیش کیے گئے لیکن ابھی تک بیان ریکارڈ نہیں ہو سکے، جیل میں ایک ہال ہے کرسیاں لگی ہوئی ہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کیلئے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اگرشہری جیل ٹرائل دیکھنا چاہتے ہیں تو ان پر پابندی کیوں ہے؟ اوراگرملزم کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے تو سیکیورٹی تھریٹ کی جگہ کوئی بھی کیسے داخل ہوسکتا ہے؟ ہم نے جیل کے دورے کے دوران وہاں ایک بڑا ہال دیکھا تھا۔

وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میڈیا اورجنرل پبلک کو چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل دیکھنے کی اجازت ہونی چاہئے، اوپن کورٹ ٹرائل کیا جائے، سائفر کیس برقرار ہی نہیں رہ سکتا، سب دیکھیں گے کہ اس کیس میں کوئی جرم موجود ہی نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی پرسائفر کا متن پبلک کرنے کا الزام ہے۔

 جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسارکرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یقینی بنائیں کہ غیرمناسب طریقے سے ٹرائل آگے نہ بڑھایا جائے، اٹارنی جنرل صاحب آپ آج ہی دلائل دینا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مجھے کچھ وقت دیدیا جائے آئندہ سماعت پردلائل دونگا۔

عدالت نے کہا کہ یہ عدالت چاہتی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ جلد کردیا جائے، وکیل سلمان اکرام نے کہا کہ عدالت جیل ٹرائل پرحکمِ امتناعی جاری کردے جس پرجسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو سن لیں، ابھی حکم امتناعی جاری نہیں کرینگے، اٹارنی جنرل نے عدالت کی آبزرویشنزاورآپکے تحفظات بھی سن لیے ہیں، شاید اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر کوئی بہتر تجویز لے آئیں۔ جس طرح سپریٹنڈنٹ جیل اچھی تجویز لے کر آ گئے تھے۔

پراسیکیوٹرنے کہا کہ ٹرائل سے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کو وکلاسے مشاورت کا وقت دیا جاتا ہے جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹرائل کی عمارت کو ایسے کھڑا نہ کریں کہ وہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 14 نومبرتک ملتوی کردی۔

اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version