انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ چند افغان رہنماؤں کے غیرذمہ دارانہ بیانات افسوسناک ہیں، گزشتہ دو سال کے دوران سرحد پار سے دہشت گردوں کی کاروائیوں کے باعث دو ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے۔
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان بھائی چارے کا ایک گہرا رشتہ ہے، افغانستان پرجب بھی کوئی افتاد پڑی پاکستان نے مدد کی۔ ہم نے انتہائی خندہ پیشانی سے اپنے افغان بھائیوں کا ساتھ نبھایا۔ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد ہمیں امید تھی کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ٹی ٹی پی افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان پربزدلانہ حملے کرتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے دنیا بھرمیں افغان عوام کا مقدمہ لڑا۔ گزشتہ دو سال میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو جاری رکھیں گے
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی نیوز کانفرنس #BOLNews #AnwarulHaqKakar pic.twitter.com/LD2gYCScVi— BOL Network (@BOLNETWORK) November 8, 2023
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ افغان حکومت کے اس رویے کے بعد پاکستان نے اپنے اندرونی معاملات خود ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں ایک بڑا کردارغیر قانونی تارکین وطن کا ہے۔ دہشت گردی میں ملوث اکثرافراد کا تعلق افغانستان سے ہے، پاکستان کو غیرقانونی غیرملکیوں کو واپس بھجوانے کا مکمل قانونی اور اخلاقی حق حاصل ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہونے کے ثبوت کئی مرتبہ افغان عبوری حکومت کو فراہم کیے۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ چند افغان رہنماؤں کے غیرذمہ دارانہ بیانات افسوسناک ہیں، گزشتہ دو سال کے دوران سرحد پار سے دہشت گردوں کی کاروائیوں کے باعث دو ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے۔ افغان رہنماؤں کے حالیہ بیانات کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی معنی خیزہے۔ ہم افہام و تفہیم سے معاملہ حل کرنا چاہتے تھے لیکن افغان رہنماؤں کے بیانات سے ایسا ممکن نہیں رہا۔
دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی نیوز کانفرنس #BOLNews #AnwarulHaqKakar pic.twitter.com/Dyuf7hOjlH— BOL Network (@BOLNETWORK) November 8, 2023
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ افغان عبوری حکومت دہشت گردی میں ملوث غیر قانونی پاکستانی شہریوں کو پاکستان کے حوالے کرے، پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو جاری رکھے گا۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ امریکا افغانستان میں جو اسلحہ چھوڑ کر گیا تھا وہ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے، امریکی اسلحہ پورے خطے میں بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے، اب تک رضا کارانہ طور پر دو لاکھ 52 ہزار افغان شہری وطن واپس جا چکے ہیں۔ غیر قانونی غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کے دوران کسی پختون پاکستانی شہری کے ساتھ زیادتی قابل قبول نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ نسلی بنیاد پرکسی کے ساتھ بھی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا، تصدیق شدہ دستاویزات کے حامل 14 لاکھ افغان باشندے پاکستان میں رہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ افغان حکومت تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرے گی۔ افغان باشندوں کے جعلی پاکستانی پاسپورٹ پرسعودی عرب کے سفیرسے متعلق انکوائری ہو رہی ہے، پاکستان کو غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش ہے، غزہ کی صورتحال پر سعودی عرب میں خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔ اجلاس میں فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کی امداد سے متعلق جائزہ لیا جائے گا۔
نگراں وزیراعظم کی غیررسمی گفتگو
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے پریس کانفرنس کے بعد غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ ہورہا ہے اس لیے ابھی کرکٹ بورڈ کو نہیں چھیڑ رہے، دو ماہ بعد الیکشن ہیں جو نئی حکومت آئے گی خود اس معاملے کو دیکھ لے گی۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم سیمی فائنل میں پہنچے گی یا نہیں مفروضوں پر بات نہیں کرتا۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ اسموگ کے معاملے پر بھارتی حکومت سے بات کرینگے۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ امریکی سفیر کو غزہ کی سنگین صورتحال کے نتائج سے آگاہ کیا تھا، ان سے پوچھا کہ آپ کے بچے ہیں انہوں نے کہا ہاں ہیں میں نے کہا کہ میرا بھی بیٹا ہے، ان سے کہا کہ غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کا دکھ بھی اپنے بچوں جیسا ہے، میں غیر ملکی سفارت کاروں سے 25 کروڑ عوام کا نمائندہ بن کر بات کرتا ہوں۔ اسٹیٹ سیکرٹ کی وجہ سے بتا نہیں سکتا کہ ان سے پاکستان کا کیس کیسے لڑتے ہیں۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔



















