عدالتِ عظمٰی نے دورانِ سماعت بنیادی انسانی حقوق سیل کوغیرقانونی قراردیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن الله نے کہا کہ یہ سیل 2005 میں بنایا گیا لیکن واضح نہیں کیا گیا کہ کس قانون کے تحت ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نہیں ہوتا، سپریم کورٹ ججزاورچیف جسٹس پرمشتمل ہوتا ہے، فیئر ٹرائل کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اس سیل کے لیے سپریم کورٹ کے رولز میں نہ ترامیم کی گئیں اور نہ فل کورٹ سے منظوری ہوئی۔ چیف جسٹس چیمبرمیں بیٹھ کرجوڈیشل حکم کیسے دے سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں قائم ہیومین رائٹس سیل کا وجود قانونی نہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس اپنے چیمبر میں کوئی حکم جاری نہیں کرسکتا، چیف جسٹس کیس کو کھلی عدالت میں مقررکرکے فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ 2019 کے بعد تو فل کورٹ اجلاس میری سربراہی میں 18 ستمبر کو ہوا، کس قانون کے تحت سرکولر ہوا؟
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔
