سینیٹراسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ دہشت گردی توانائی بحران سے بڑا ناسورہے، جنہوں نےغلطیاں کیں وہ معافی مانگیں۔
سینیٹراسحاق ڈارنے سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا، دہشتگردی کی حالیہ لہرمیں اضافہ کیوں ہوا؟ دہشتگردی سے نمٹنےکےلیے مستقل حکومت کا انتظارنہیں کرناچاہیے۔
اسحاق ڈارنے کہا کہ خطرناک دہشتگردوں کو چھوڑنا کس کا فیصلہ تھا؟ جنہوں نے غلطیاں کیں وہ معافی مانگیں، جنگل کے قانون کے تحت ملک نہیں چل سکتا، دہشتگردی کے خلاف جنگ کو ضرب عضب کانام دیاگیا۔
سابق وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کامعاملہ حساس اور اہم ہے، غیرقانونی تارکین وطن کا حق ہے کہ وہ اپنے اثاثے ساتھ لےکرجائیں۔ کس نے کہا تھا جیلوں میں قید خطرناک دہشتگردوں کو چھوڑاجائےاورکیوں؟
اسحاق ڈارنے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنےکےلیے اربوں روپے درکارہوتے ہیں، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سےبچایا، ضرب عضب کے بعد ردالفساد آپریشن شروع کیا، کس نے کہا تھا کابل جا کرافغان حکومت کو انگیج کرے، قوم کو ان لوگوں سے پوچھناچاہیے۔
انھوں نے کہا کہ دہشتگردی توانائی بحران سے بڑا ناسورہے، پاکستان میں 20،20گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی تھی، ڈی چوک پردھرناچل رہاتھا جسے100دن ہوگئے تھے، آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا،100 سے زائدبچے شہید ہوئے، اے پی ایس میں جوکچھ ہوا اس نے سب کوہلاکررکھ دیاتھا۔
اسحاق ڈارنے مذید کہا کہ سانحہ کےبعد پشاور میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیاگیا، میں نےان کی لیڈرشپ کو کال کی اورسب کو اکٹھا کیا، تمام سیاسی جماعتیں بیٹھیں فیصلہ ہوا نیشنل ایکشن پلان بناناہے، تمام سیاسی جماعتوں نے بیٹھ کر نیشنل ایکشن پلان بنایا۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















