محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغام اسلام پیغام پاکستان ہے اور اسلام کا پیغام امن ، رواداری، محبت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کا پیغام ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور پیغام پاکستان علما مشائخ کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
طاہر محمود اشرفی نے یہ بھی کہا کہ پیغام پاکستان سے متعلق آرمی چیف سے ملاقات ہوئی جس میں علماء نے پیغام پاکستان کو واضح انداز میں بیان کیا، علماء و مشائخ ملکی سلامتی کے لیے افواج کے شانہ بشانہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان نے42 سال افغان مہاجرین کی خدمت کی، قبول نہیں کہ افغانستان میں دھماکوں میں ہمارے بھائیوں کاخون بہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں، دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان میں تنظیموں سے ملتے ہیں، ان کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن کس کی ذمہ داری ہے۔
طاہر محمود اشرفی نے یہ بھی کہا کہ افغان حکومت کو کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینا چاہئے لیکن وہ ایکشن نہیں لیتےکہتے ہیں اپنا گھر ٹھیک کریں تو ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم اپنا گھر ٹھیک کریں گے، کوشش کریں گے کہ کوئی ہمارے بچوں کا خون نہ بہائے، امن برقرار رکھنا دونوں حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ حکومت کا موقف بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ہے۔
وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں غزہ میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















