بیوی کو حق مہرنہ دینے پرسپریم کورٹ نے شوہر کو ایک لاکھ رپوے کا جرمانہ کر دیا۔
عدالتِ عظمٰی نے 6 سال عدالت میں کیس چلانے اور حق مہر نہ دینے پر بھلوال کے شہری کو جرمانہ کیا، دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگرآپ کو پاکستان کا قانون پسند نہیں تو کم ازکم اسلام کا ہی احترام کر لیں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ حق مہربیوی کا حق ہے اسے کیوں نہیں دیا؟ د رخواست گزارکی کتنی بیویاں ہیں؟
سپریم کورٹ ؛ حق مہر ادا نہ کرنے پر شوہر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/qWkgXrUYr1
— BOL Network (@BOLNETWORK) November 20, 2023
وکیل درخواست گزارنے جواب دیا کہ دو بیویاں ہیں جس پرچیف جسٹس نے نکاح نامہ میں لکھے 5 لاکھ حق مہر 6 سال تک نہ ادا کرنے پروکیل درخواست گزارکی سرزنش کر دی۔
وکیل درخواست گزارسے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کو اب دس لاکھ ادا کرنے کا حکم جاری کردیں تاکہ آئندہ ایسے مقدمات عدالت میں نہ لائیں۔
وکیل درخواست گزارنے جواب دیا کہ میں اپنا کیس واپس لیتا ہوں جس پرعدالت نے کہا کہ ایسے نہیں ہوگا وکیل صاحب جب مرضی آپ کیس واپس لے لیں، 6 سال آپ نے بیوی کواس کا حق نہیں دیا اوراب آپ انصاف کیلئے سپریم کورٹ آئے ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اب آپ کو انصاف تو ملے گا انصاف دونوں طرف ملنا چاہیے اورحکم دیا کہ ایک ماہ میں بیوی کو حق مہرادا کیا جائے۔ ایک ماہ میں حق مہرادا کرکے فیملی کورٹ کو آگاہ کریں اور دستاویزات جمع کروائیں، اگر 30 روز میں حق مہر ادا نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔ ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
